ایران جنگ میں 50 ارب ڈالر کا تیل ضائع ہونے کا خدشہ، عالمی معیشت متاثر

ایران جنگ کے دوران 50 ارب ڈالر مالیت کا تیل ضائع ہوا، بحران کے اثرات طویل عرصے تک رہ سکتے ہیں۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
ایران جنگ، 50 ارب ڈالر کا تیل ضائع ہونے کا خدشہ

تہران: (رائیٹ ناوٴ نیوز) ایران جنگ کے 50 دنوں میں دنیا کو بھاری نقصان پہنچا ہے، 50 ارب ڈالر مالیت کا خام تیل پیدا نہیں ہو سکا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بحران کے اثرات فوری ختم نہیں ہوں گے، بلکہ مہینوں سے لے کر برسوں تک عالمی معیشت کو متاثر کر سکتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران جنگ کے آغاز کے بعد سے دنیا 50 ارب ڈالر سے زائد مالیت کے خام تیل سے محروم ہو چکی ہے۔ فروری کے آخر میں شروع ہونے والے اس بحران نے عالمی توانائی کی سپلائی کو شدید متاثر کیا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ لبنان میں جنگ بندی معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز بحری آمدورفت کے لیے کھول دی گئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امید ظاہر کی ہے کہ جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدہ جلد طے پا جائے گا، تاہم حتمی وقت واضح نہیں۔

ماہرین کے مطابق اب تک 50 کروڑ بیرل سے زائد خام تیل عالمی منڈی سے غائب ہو چکا ہے، جو توانائی کی فراہمی میں بڑی رکاوٹ قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ مقدار امریکا کی تقریباً ایک ماہ کی تیل کی طلب یا یورپ کی ایک ماہ سے زائد ضروریات کے برابر ہے۔

واضح رہے کہ خلیجی عرب ممالک میں مارچ کے دوران یومیہ 80 لاکھ بیرل تیل کی پیداوار متاثر ہوئی۔ سعودی عرب، قطر، اور دیگر ممالک سے جیٹ فیول کی برآمدات میں بھی نمایاں کمی آئی۔ فروری میں یہ برآمدات 1 کروڑ 96 لاکھ بیرل تھیں، جو مارچ اور اپریل میں کم ہو کر 41 لاکھ بیرل رہ گئیں۔

دیگر متعلقہ خبریں