آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت 95 فیصد تک کم ہو گئی، امریکا اور اسرائیل کے ایران کے خلاف تنازعہ کی وجہ سے خطے میں کشیدگی برقرار ہے۔
دوحہ: (رائیٹ ناوٴ نیوز) آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت میں 95 فیصد تک کمی واقع ہوئی ہے، جس کی وجہ امریکا اور اسرائیل کے ایران کے خلاف تنازعہ ہے۔ اس سمندری راستے پر حملے اور کشیدگی کی وجہ سے عالمی توانائی اور تجارت متاثر ہو رہی ہے۔
شپ ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق، جنگ سے پہلے روزانہ 100 جہاز گزرتے تھے، جو اب کم ہو کر 5 فیصد رہ گئے ہیں۔ 279 بحری جہاز گزرے ہیں، جن میں سے 22 پر حملے ہوئے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایران کی بندرگاہوں کے لیے بحری ناکہ بندی نافذ کر دی ہے۔ ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر دباؤ جاری رہا تو وہ خلیجی ممالک کی بندرگاہوں کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
یہ صورت حال خطے میں کشیدگی بڑھا رہی ہے، جس سے تیل اور گیس کی ترسیل متاثر ہو رہی ہے۔ عالمی منڈی میں قیمتیں بڑھ رہی ہیں اور بحری انشورنس اور ترسیلی لاگت میں اضافہ ہو چکا ہے۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی تیل اور گیس کی ترسیل کا ایک بڑا راستہ ہے۔ اگر یہ کشیدگی جاری رہی تو عالمی توانائی اور تجارتی نظام پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔











