پیکا قانون اب صحافیوں اور شہریوں کے لیے خطرناک بن چکا ہے، ڈیجیٹل کنٹرول کے نظام میں تبدیل۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز)۔ پیکا قانون کی حالیہ رپورٹ کے مطابق صحافیوں اور شہریوں کے لیے یہ قانون خطرناک بن چکا ہے۔
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے بتایا کہ 2016 میں منظور شدہ پیکا قانون انٹرنیٹ کو محفوظ بنانے کے لیے نافذ ہوا، مگر اب یہ ڈیجیٹل کنٹرول کے نظام کی شکل اختیار کر چکا ہے۔
رپورٹ کے مطابق 2017 میں صحافیوں کی گرفتاریاں شروع ہوئیں، اور 2023 میں ڈیجیٹل دہشت گردی جیسے الزامات کے تحت صحافیوں اور شہریوں کو نشانہ بنایا گیا۔
کمیشن نے کہا کہ 2026 تک یہ قانون ضابطہ جاتی فریم ورک بن چکا ہے، اور سوشل میڈیا پر نئے قواعد و ضوابط کے نفاذ کے بعد ڈیجیٹل منظرنامہ تبدیل ہو گیا۔
یاد رہے کہ 2016 میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے پیکا قانون متعارف کرایا اور 2024 میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم کی بندش اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کا قیام عمل میں آیا۔















