ایران اور عمان نے آبنائے ہرمز پر تجارتی جہازوں سے فیس یا ٹیکس وصول کرنے کی تجویز دی ہے، جس کا مقصد جنگ زدہ علاقوں کی تعمیر نو ہے۔
تہران: (رائیٹ ناوٴ نیوز) ایران اور عمان نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں سے فیس یا ٹیکس وصول کرنے کی تجویز دی ہے۔ یہ تجویز امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی معاہدے کے دوران سامنے آئی ہے۔
یہ فیس جنگ زدہ علاقوں کی تعمیر نو کے لیے فنڈز جمع کرنے کے مقصد سے عائد کی جائے گی۔ امریکی میڈیا کے مطابق منصوبے پر علاقائی حکام کی مشاورت جاری ہے۔
ایران کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے بتایا ہے کہ یہ فیس جہاز کی قسم اور سامان کی بنیاد پر مقرر کی جائے گی۔ عمان کی طرف سے حاصل کردہ رقم کے استعمال کی تفصیلات ابھی واضح نہیں ہیں۔
یہ اقدام عالمی سطح پر تنقید کا نشانہ بن رہا ہے کیونکہ قدرتی آبی گزرگاہوں پر ایسی فیس کا لاگو ہونا بے مثال ہے۔ خلیجی ممالک خاصی تشویش کا شکار ہیں۔
واضح رہے کہ عالمی قوانین کے تحت قدرتی آبنائے کے ساحلی ممالک صرف مخصوص خدمات کی فیس لے سکتے ہیں، محض گزرنے کی فیس نہیں۔ تاہم، نہر سوئز جیسے راستے خود بنائے گئے ہیں، اس لیے وہاں فیس وصول کی جاتی ہے۔











