امریکی صدر ٹرمپ کا کرد رہنماؤں سے رابطہ، ایران میں بغاوت کا خدشہ۔ واشنگٹن ایرانی کرد گروہوں کو متحرک کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
واشنگٹن: (رائیٹ ناوٴ نیوز)امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے دوران کرد گروہوں کے کردار پر نئی سفارتی سرگرمیاں منظرعام پر آئی ہیں۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے عراقی کرد رہنما بافل طالبانی سے ٹیلیفون پر بات چیت کی ہے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی حالیہ دنوں میں ان سے رابطہ کر چکے ہیں۔
پیٹریاٹک یونین آف کردستان کے بیان کے مطابق ٹرمپ نے طالبانی سے گفتگو کے دوران امریکا کے اہداف کو واضح کرنے اور امریکا اور عراق کے درمیان شراکت داری کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا۔ بیان میں کہا گیا کہ اس رابطے نے امریکا کے مقاصد کو بہتر طور پر سمجھنے کا موقع فراہم کیا اور خطے میں تعاون کے مختلف پہلوؤں پر بات ہوئی۔
امریکی میڈیا اداروں سی این این اور ایکسیوس کے مطابق ٹرمپ کی کرد رہنماؤں سے گفتگو ایک وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہو سکتی ہے جس کے تحت امریکا ایران کے خلاف جاری جنگ کے دوران مختلف کرد گروہوں کو متحرک کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ واشنگٹن ایرانی کرد تنظیموں کو استعمال کرتے ہوئے ایران کے مغربی علاقوں سے حکومت مخالف سرگرمیوں کو بڑھانے پر غور کر رہا ہے۔
سی این این نے امریکی اور کرد حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ امریکی حکام ایرانی کرد اپوزیشن گروہوں کو اسلحہ فراہم کرنے کے امکان پر بات چیت کر رہے ہیں۔ اس منصوبے کا مقصد ایرانی فوج کو مختلف محاذوں پر مصروف کرنا، اندرونی دباؤ بڑھانا اور ممکنہ طور پر شمالی ایران میں ایسے علاقے قائم کرنا بتایا جا رہا ہے جو اسرائیل کے لیے بفر زون کا کردار ادا کر سکیں۔
رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی کرد جماعت ڈیموکریٹک پارٹی آف ایرانی کردستان کے سربراہ مصطفیٰ ہجری سے بھی رابطہ کیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض کرد گروہ آئندہ دنوں میں مغربی ایران میں زمینی کارروائیوں میں حصہ لے سکتے ہیں۔
کرد باغی گروہ کئی دہائیوں سے ایران کے کردستان صوبے اور دیگر مغربی علاقوں میں سرگرم ہیں اور عموماً عراق ایران سرحد کے قریب علاقوں میں کام کرتے ہیں۔ ایران اور عراق کی کرد آبادی کے درمیان قریبی روابط موجود ہیں، جس کے باعث سرحدی علاقوں کی صورتحال خطے کی سیاست میں اہمیت رکھتی ہے۔ حالیہ کشیدگی کے دوران ایران کی پاسداران انقلاب نے بھی مغربی ایران میں بعض کرد ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر امریکا کرد گروہوں کو اسلحہ فراہم کرنے یا انہیں متحرک کرنے کی پالیسی اختیار کرتا ہے تو اس کے علاقائی اثرات وسیع ہو سکتے ہیں۔ برطانیہ کے تھنک ٹینک چیتھم ہاؤس سے وابستہ تجزیہ کار نیل کویلیان کے مطابق ایسا اقدام ایران کے اندرونی تنازعات کو بڑھا سکتا ہے اور مختلف اپوزیشن گروہوں کو ایک دوسرے کے مقابل لا سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکا اور کرد گروہوں کے درمیان تعلقات ماضی میں بھی قائم رہے ہیں۔ امریکا نے عراق میں کردوں کے لیے 1991 میں نو فلائی زون قائم کیا تھا جس کے نتیجے میں کرد خودمختار خطہ قائم ہوا۔ بعد ازاں 2014 کے بعد امریکا نے داعش کے خلاف جنگ میں عراقی کرد پیشمرگہ فورسز کے ساتھ مل کر کارروائیاں کیں۔
اسی طرح امریکا نے شام میں کرد ملیشیا کو تربیت اور اسلحہ فراہم کیا تھا۔ تاہم بعد میں واشنگٹن نے اپنی پالیسی تبدیل کرتے ہوئے شام کی نئی حکومت کے ساتھ تعاون بڑھایا اور کرد فورسز نے شامی حکومت کے ساتھ انضمام کا معاہدہ کر لیا۔
واضح رہے کہ امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے ماضی میں مختلف خطوں میں حکومت مخالف گروہوں کی حمایت یا حکومتوں کی تبدیلی سے متعلق کارروائیوں میں ملوث رہی ہے۔ 1953 میں ایران میں منتخب وزیر اعظم محمد مصدق کی حکومت کے خاتمے میں سی آئی اے اور برطانوی خفیہ ایجنسی ایم آئی 6 کے مشترکہ آپریشن کا حوالہ دیا جاتا ہے۔
اسی طرح 1954 میں گوئٹے مالا میں منتخب صدر جیکوبو آربینز کی حکومت کے خلاف کارروائی، 1960 اور 1961 میں کیوبا میں فیدل کاسترو کی حکومت کو کمزور کرنے کی کوششیں، اور 1973 میں چلی میں صدر سلواڈور الیندے کی حکومت کے خاتمے میں بھی امریکی کردار پر عالمی سطح پر بحث ہوتی رہی ہے۔
1980 کی دہائی میں امریکا نے نکاراگوا میں کونٹرا باغیوں کی حمایت کی جبکہ افغانستان میں سوویت یونین کے خلاف مجاہدین کو مالی اور عسکری مدد فراہم کی گئی۔ مختلف ادوار میں ویتنام، ایل سلواڈور اور لیبیا میں بھی امریکا کی جانب سے حکومت مخالف گروہوں کو مدد دینے کی رپورٹس سامنے آتی رہی ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ ایران کشیدگی کے تناظر میں کرد گروہوں کے ساتھ ممکنہ امریکی تعاون نے خطے میں نئی سفارتی اور سلامتی خدشات کو جنم دیا ہے۔











