سعودی وزارت خارجہ نے امریکی سفیر کے اسرائیل کے حق میں ریمارکس کی مذمت کی، جو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں۔
ریاض: (رائیٹ ناوٴ نیوز) سعودی وزارت خارجہ نے اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر مائیک ہکابی کے حالیہ انٹرویو کے ردعمل میں بیان جاری کرتے ہوئے اسرائیل کے خطے پر کنٹرول سے متعلق ریمارکس کی مذمت کی اور انہیں مسترد کر دیا ہے۔
مائیک ہکابی نے کہا تھا کہ اگر اسرائیل مشرق وسطیٰ کے وسیع علاقوں پر قبضہ کر لے تو انہیں اس پر اعتراض نہیں ہوگا، اور یہ زمین اسرائیلیوں کا حق ہے۔ انہوں نے دریائے نیل سے نہر فرات تک کے علاقوں کا حوالہ بھی دیا۔
سعودی وزارت خارجہ نے کہا کہ ایسے بیانات بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے منشور اور سفارتی اصولوں کی خلاف ورزی ہیں، جو خطے میں کشیدگی بڑھا سکتے ہیں اور عالمی امن و سلامتی کو متاثر کر سکتے ہیں۔
#Statement | The Foreign Ministry expresses its strongest condemnation and complete rejection of the statements made by the United States Ambassador to Israel, in which he recklessly suggested that Israel’s control over the entire Middle East would be acceptable. pic.twitter.com/SEMy5s53z2
— Foreign Ministry 🇸🇦 (@KSAmofaEN) February 21, 2026
اعلامیے میں امریکی محکمہ خارجہ سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اس بیان کے حوالے سے اپنی پوزیشن واضح کرے۔ سعودی حکومت نے کسی بھی ملک کی خودمختاری، سرحدوں اور علاقائی سالمیت کو نقصان پہنچانے والے اقدامات ناقابل قبول قرار دیے ہیں۔
وزارت خارجہ نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کا راستہ دو ریاستی حل سے ہو کر گزرتا ہے اور سعودی عرب 1967 کی سرحدوں کے مطابق آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کرتا ہے۔














