سپریم کورٹ نے گواہوں کو ہراساں کرنے کو انصاف کے منافی قرار دیا، ٹرائل کورٹ کو غیر ضروری جرح کو محدود کرنے کا اختیار دیا۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) سپریم کورٹ نے اپنے ایک حالیہ فیصلے میں واضح طور پر کہا ہے کہ گواہوں کو جرح کے نام پر ہراساں کرنا اور غیر متعلقہ سوالات کرنا ناقابلِ قبول ہیں۔ عدالت نے کہا کہ جرح کا حق نہ تو لامحدود ہے اور نہ ہی بے لگام۔ ٹرائل کورٹ کو یہ قانونی اختیار حاصل ہے کہ وہ غیر ضروری جرح کو محدود یا ختم کر سکے تاکہ عدالتی کارروائی منصفانہ اور مؤثر رہے۔
سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور لاہور ہائی کورٹ کے فیصلوں کو درست قرار دیا، جن میں کہا گیا کہ گواہوں کو غیر ضروری تضحیک اور دباؤ سے محفوظ رکھنا عدالت کی ذمہ داری ہے۔ ٹرائل کورٹ نے مشاہدہ کیا تھا کہ کیس میں مزید جرح غیر ضروری اور ہراساں کرنے کے مترادف ہے، جس کے بعد مدعا علیہ کا مزید جرح کا حق ختم کر دیا گیا۔
سپریم کورٹ نے نشاندہی کی کہ گواہوں کو طویل جرح کے ذریعے تھکا کر غلطی پر مجبور کرنا انصاف کے منافی ہے۔ عدالت نے لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل مسترد کرنے کو قانونی دائرہ اختیار کے اندر اور درست قرار دیا۔
فیصلے کے مطابق یہ مقدمہ لاہور کے علاقے موہلنوال میں 53 کنال 3 مرلہ اراضی کے متعلق تھا، جس میں مدعی بطور گواہ پیش ہوا۔ 2 ماہ کی 7 سماعتوں میں گواہ پر 30 صفحات کی جرح کی گئی، جسے غیر ضروری قرار دیا گیا۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ جسٹس شاہد بلال حسن نے جاری کیا۔















