پاکستانی حکومت نے آئی ایم ایف کے محصولات کی کمی کے اقدامات کے تحت ترقیاتی فنڈز میں کمی کر دی۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز)وفاقی پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت جاری مالی سال کے پہلے 5 ماہ میں ترقیاتی اخراجات محض 9.2 فیصد ریکارڈ کیے گئے۔ وزارت منصوبہ بندی و ترقیات کے ماہانہ ترقیاتی آؤٹ لک دسمبر 2025 کے مطابق اس عرصے میں 196 ارب روپے کی منظوری دی گئی، جبکہ صرف 92 ارب روپے خرچ ہو سکے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 5 ماہ کے دوران محصولات میں 430 ارب روپے کی کمی کے بعد حکومت نے عالمی مالیاتی فنڈ کے ساتھ 1.2 ارب ڈالر کی قسط کے لیے اصلاحاتی اقدامات پر تحریری وعدہ کیا ہے۔ ایف بی آر کی وصولیاں اگر مالی سال 2026 کی دوسری سہ ماہی میں بھی کم رہیں تو کھادوں اور کیڑے مار ادویات پر وفاقی ایکسائز ڈیوٹی میں 5 فیصد اضافے پر غور کیا جائے گا۔
وزارتوں اور ڈویژنز کو 5 ماہ میں مجموعی طور پر 196 ارب روپے جاری کیے گئے، جن میں سے 92 ارب روپے اخراجات کے طور پر رپورٹ ہوئے۔ کم ریلیز اور محدود استعمال کے باوجود پہلے سہ ماہی میں بجٹ سرپلس 1.6 فیصد رہا۔
اعداد و شمار کے مطابق پانی کے شعبے کو منظور شدہ 98 ارب روپے میں سے 14.281 ارب روپے خرچ کیے گئے۔ سماجی شعبے میں تعلیم کے لیے 60.75 ارب روپے مختص تھے، جن میں سے 12.292 ارب روپے استعمال ہوئے۔ صحت اور غذائیت کے شعبے میں 16.8 ارب روپے کی منظوری کے مقابلے میں صرف 0.211 ارب روپے خرچ کیے گئے۔
حکومت نے تیز رفتار منصوبوں کو ترجیح دینے، نفاذ کے عمل کو مضبوط بنانے اور بروقت اخراجات یقینی بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکام کے مطابق اس حکمت عملی کا مقصد ترقیاتی منصوبوں کے معاشی اثرات میں بہتری لانا ہے۔

![پاکستانی حکومت کی ترقیاتی فنڈز میں کمی، آئی ایم ایف کے اقدامات [Draft]](https://rightnow.pk/wp-content/uploads/2025/12/13006_2025-12-19_07-13-51.webp)













