خیبر پختونخوا میں گورنر راج کی گونج، افسانہ یا حقیقت؟

اڈیالہ جیل کے دھرنے پر واٹر کینن کا استعمال، ملاقاتوں پر پابندی اور گورنر راج کے بیانات زیر غور ہیں۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
اڈیالہ جیل دھرنا، ملاقاتوں پر پابندی اور گورنر راج کے بیانات [Draft]

اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز)تحریک انصاف پر حالیہ ہفتوں میں بڑھتی حکومتی سختیاں، اڈیالہ جیل کے باہر دھرنا اور واٹر کینن کا استعمال، عمران خان سے ملاقاتوں پر پابندی، خیبر پختونخوا میں گورنر راج سے متعلق بیانات، وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی کارکردگی سے جڑے اہم انکشافات اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس طارق محمود جہانگیری سے متعلق سنگین عدالتی تنازع جیو نیوز کے پروگرام آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ میں تفصیل سے زیر بحث آیا۔

اڈیالہ جیل، دھرنا اور واٹر کینن

شاہ زیب خانزادہ نے بتایا کہ کئی ہفتوں بعد 2 دسمبر کو عمران خان سے ان کی بہن عظمیٰ خان کی ملاقات کروائی گئی، جس کے بعد عمران خان کا پیغام جاری کیا گیا۔ ان کے مطابق اس پیغام پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے سخت ردعمل دیا اور اس کے بعد حکومت نے فیملی اور وکلا کی ملاقاتیں دوبارہ بند کر دیں۔

شفیع جان نے کہا، ‘عمران خان کے صاحبزادوں نے جنوری میں پاکستان آنے اور والد سے ملاقات کا عندیہ دیا ہے، یہ ان کا بنیادی حق ہے اور پاکستان تحریک انصاف ان کے ساتھ کھڑی ہوگی۔’

انہوں نے کہا کہ گزشتہ رات بھی اڈیالہ جیل کے باہر عمران خان کی بہنوں اور پارٹی رہنماؤں نے ملاقات نہ ہونے پر دھرنا دیا، جسے منتشر کرنے کے لیے پولیس نے واٹر کینن کا استعمال کیا۔

تحریک انصاف کے مؤقف کے مطابق، ‘عمران خان کی بہنوں علیمہ خان، عظمیٰ خان، راجہ ناصر عباس، دیگر پارٹی رہنماؤں، کارکنوں اور پرامن مظاہرین پر پنجاب پولیس نے کیمیکل ملے پانی سے حملہ کیا، نہ کوئی ہنگامی صورتحال تھی، نہ قانونی جواز اور نہ ہی کسی قسم کا اشتعال موجود تھا، اس کے باوجود خواتین، بزرگوں اور پرامن شرکاء پر تشدد کیا گیا اور متعدد کارکنوں کو زبردستی گرفتار کیا گیا۔’

تحریک انصاف کے کارکنوں کے خلاف مقدمات کا اندراج

نمائندہ جیو نیوز شبیر ڈار کے مطابق، ‘اڈیالہ جیل کے باہر دھرنے پر تھانہ صدر بیرونی میں 35 نامزد ملزمان سمیت 400 افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے، جس میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔’

شبیر ڈار کے مطابق مقدمے میں علیمہ خان، نورین نیازی، عظمیٰ خان، قاسم خان، سلمان اکرم راجہ اور عالیہ حمزہ سمیت دیگر پی ٹی آئی رہنماؤں کے نام شامل ہیں، جبکہ 14 افراد کو موقع سے گرفتار کر کے انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش کیا گیا۔ مقدمے میں دفعہ 144 کی خلاف ورزی اور پولیس پر حملوں کے الزامات بھی شامل ہیں۔

حکومتی مؤقف اور ملاقاتوں کی پابندی

وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے نمائندہ جیو نیوز شیراز گردیزی سے گفتگو میں کہا، ‘ملاقات قانون اور جیل مینوئل کے مطابق ہوگی، کسی کی ضد یا خواہش پر نہیں۔ ملاقات قیدی کی ویل بینگ اور قانونی معاملات کے لیے ہوتی ہے، سیاست یا ریاست مخالف گفتگو کے لیے نہیں ہوتی۔’

عطا تارڑ نے کہا، ‘عظمیٰ خان کی ملاقات اس لیے کروائی گئی تھی کہ اس وقت کوئی وائیلیشن نہیں تھی، اب وائیلیشن ہوئی ہے تو قانون کے مطابق پابندی لگے گی۔’

بشریٰ بی بی سے ملاقات کا معاملہ

شاہ زیب خانزادہ کے مطابق عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی بھی اڈیالہ جیل میں قید ہیں اور ان سے بھی فیملی یا وکلا کو ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ انہوں نے بتایا کہ بشریٰ بی بی کی بہن مریم ریاض بھٹو نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ‘بشریٰ عمران آٹھ ہفتوں سے زیادہ عرصے سے قید تنہائی میں ہیں اور نہ فیملی کو ملنے دیا جا رہا ہے اور نہ وکلا کو۔’ بعد ازاں مریم ریاض بھٹو نے ایک اور پوسٹ میں اڈیالہ جیل کے باہر خواتین کے ساتھ ہونے والے سلوک کو ‘غیر انسانی، غیر قانونی اور مذہبی و معاشرتی روایات کے خلاف’ قرار دیا۔

خیبر پختونخوا، گورنر راج اور وفاقی تعلقات

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان نے پروگرام میں کہا، ‘اگر گورنر راج لگانے کا شوق ہے تو یہ شوق پورا کر لیا جائے، مگر یہ مس ایڈونچر ثابت ہوگا۔ خیبر پختونخوا میں کوئی غیر آئینی یا غیر قانونی اقدام نہیں ہوا کہ گورنر راج کی بات کی جائے۔’

این ایف سی اجلاس سے متعلق شفیع جان نے کہا، ‘ہم نے این ایف سی ایوارڈ کے اجلاس میں شرکت کی، صوبے کے واجبات، این ایچ پی، این ایف سی شیئر اور دیگر مالی معاملات بڑے مدلل انداز میں رکھے گئے، جس پر ورکنگ کمیٹی بھی قائم کر دی گئی ہے۔’

عمران خان سے ملاقاتوں کے حوالے سے انہوں نے کہا، ‘عدالتی احکامات کے باوجود ملاقاتیں نہیں کروائی جا رہیں، جیل سپرنٹنڈنٹ نہ آئین مان رہا ہے، نہ قانون اور نہ ہی اسلام آباد ہائی کورٹ کے احکامات پر عمل ہو رہا ہے۔’

تحریک اور مذاکرات کا اختیار

شفیع جان کے مطابق، ‘تحریک کے حوالے سے مکمل اختیار محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر کے پاس ہے، پارٹی ان کے ہر فیصلے پر من و عن عمل کرے گی، چاہے وہ مذاکرات ہوں یا احتجاج۔’

انہوں نے کہا، ‘اگر اچکزئی صاحب لانگ مارچ، دھرنے یا مذاکرات کا فیصلہ کریں گے تو خیبر پختونخوا حکومت اور پارٹی قیادت اس کی مکمل حمایت کرے گی۔’

ایف آئی اے، آف لوڈنگ اور بدعنوانی

پروگرام کے دوسرے حصے میں ایف آئی اے کی کارکردگی پر گفتگو ہوئی۔ شاہ زیب خانزادہ کے مطابق ڈی جی ایف آئی اے رفعت مختار نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اوورسیز پاکستانیز اور انسانی حقوق کو آگاہ کیا کہ بدعنوانی میں ملوث 180 ایف آئی اے اہلکاروں کو برطرف کیا جا چکا ہے اور امیگریشن نظام کو نادرا ڈیٹا، کیمروں اور مصنوعی ذہانت سے منسلک کیا جا رہا ہے۔

شاہ زیب خانزادہ نے بتایا کہ ڈی جی ایف آئی اے کے مطابق اس سال 51 ہزار افراد کو آف لوڈ کیا گیا جبکہ مجموعی طور پر 66 ہزار مسافروں کو سفر سے روکا گیا۔ سعودی عرب نے 24 ہزار اور دبئی نے 6 ہزار پاکستانیوں کو بھیک مانگنے پر ڈی پورٹ کیا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ 24 ہزار پاکستانی کمبوڈیا گئے جن میں سے 12 ہزار واپس نہیں آئے، جبکہ 4 ہزار افراد سیاحتی ویزے پر میانمار گئے جن میں سے ڈھائی ہزار تاحال واپس نہیں آئے۔

ایف آئی اے لاہور کے ڈائریکٹر کیپٹن (ر) محمد علی ضیا نے پروگرام میں کہا، ‘جہاں کہیں بھی ایف آئی اے کا کوئی اہلکار انسانی اسمگلنگ یا بدعنوانی میں ملوث پایا گیا، اس کے خلاف نہ صرف محکمانہ کارروائی کی گئی بلکہ مقدمات بھی درج کیے گئے۔’

جسٹس طارق محمود جہانگیری کا معاملہ

پروگرام کے اختتامی حصے میں شاہ زیب خانزادہ نے تفصیل سے بتایا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس طارق محمود جہانگیری نے اپنے خلاف ڈگری کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کی کارروائی کو وفاقی آئینی عدالت میں چیلنج کر دیا ہے۔ ان کے مطابق جسٹس جہانگیری نے الزام عائد کیا ہے کہ چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے زیر التواء ڈگری کیس میں خود پر دباؤ ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں استعفیٰ دینے کی تجویز دی تھی۔

شاہ زیب خانزادہ نے بتایا کہ جسٹس جہانگیری کی درخواست کے مطابق چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے اپنے انتظامی اختیارات استعمال کرتے ہوئے پٹیشن کو ایسے بینچ کے سامنے مقرر کیا جس کی سربراہی وہ خود کر رہے تھے، حالانکہ چیف جسٹس کے اسلام آباد ہائی کورٹ میں تبادلے اور بطور چیف جسٹس تقرری کو جسٹس جہانگیری خود سپریم کورٹ میں چیلنج کر چکے تھے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ جسٹس جہانگیری کا مؤقف ہے کہ چیف جسٹس نے زیر سماعت مقدمے پر ان سے گفتگو کی اور یہ تجویز دی کہ اگر وہ ایک پوسٹ ڈیٹڈ استعفیٰ دے دیں تو دباؤ کم ہو سکتا ہے۔ شاہ زیب خانزادہ کے مطابق جسٹس جہانگیری نے اس عمل کو عدالتی ضابطہ اخلاق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے چیف جسٹس کو اس مقدمے کی سماعت سے الگ کرنے اور فل کورٹ تشکیل دینے کی استدعا کی ہے، تاکہ معاملے کا فیصلہ اجتماعی عدالتی دانش کے تحت ہو اور جانبداری کے تاثر کا خاتمہ کیا جا سکے۔

دیگر متعلقہ خبریں