پاکستان میں نئے صوبوں کی تشکیل پر سیاسی اختلافات شدت اختیار کر چکے ہیں، حکومتی رہنماؤں کے بیانات متضاد ہیں۔ ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کے موقف میں شدید فرق دیکھنے کو مل رہا ہے۔
لاہور: (رائیٹ ناؤ نیوز) پاکستان میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کا قیام موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ حکومتی و سیاسی شخصیات کی جانب سے اس بارے میں مختلف خیالات کا اظہار کیا جا رہا ہے، جب کہ بعض رہنما اس کی شدید مخالفت کر رہے ہیں۔
پاکستان کے مرکزی رہنماؤں نے حالیہ بیانات میں نئے صوبوں کے قیام پر مختلف رائے کا اظہار کیا ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے امید ظاہر کی کہ ایڈمنسٹریٹو یونٹس بنیں گے، جبکہ وزیراعظم کے مشیر نے اسے قبل از وقت قرار دیا۔
وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا کہ موجودہ دو سطحی حکومتی نظام میں تبدیلی ضروری ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ پاکستان کو 15 چھوٹے صوبوں میں تقسیم کیا جائے یا اضلاع کو بااختیار بنایا جائے۔
اس مسئلے کی اہمیت اس لیے زیادہ ہے کہ سندھ اسمبلی کی قرارداد اور پیپلز پارٹی کا مؤقف صوبے کی تقسیم کے خلاف ہے، جبکہ ایم کیو ایم انتظامی اصلاحات کی حمایت کر رہی ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان میں نئے صوبوں کا قیام سیاسی مفادات کی وجہ سے پیچیدگی کا شکار ہے۔ اس مسئلے کا حل قومی ڈائیلاگ اور مقامی حکومتی نظام کو آئینی تحفظ دینے میں ممکن ہے۔












