مولانا فضل الرحمان نے حکومت پر آئین کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ نئے صوبوں کی تشکیل میں مسائل ہیں۔
ساہیوال: (رائیٹ ناؤنیوز) جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے حکومتی اقدامات پر شدید تنقید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب گھر میں آگ لگی ہو تو گھر تقسیم نہیں کیا جاتا۔ حکمرانوں کو اپنی غلطی تسلیم کرنی چاہیے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ حکمران آئین کے تحت حلف اٹھاتے ہیں مگر خود اس کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ 80 سالوں میں ملک کو زوال کی طرف لانے والے جاگیردار، جرنیل، سرمایہ دار اور بیوروکریٹ ہیں۔
مولانا نے مزید کہا کہ نئے صوبوں کے حوالے سے بات کرنا آسان ہے مگر جب خود مخالف ہوتے ہیں تو مسائل کھڑے ہوتے ہیں۔ اٹھارہویں ترمیم کے بعد معدنی ذخائر صوبوں کی ملکیت ہیں جسے ہضم نہیں کیا جا رہا۔
مولانا نے کہا کہ امن، معیشت اور جمہوریت کی عدم موجودگی میں ڈمی اسمبلیاں بنائی جاتی ہیں۔ بیرون ملک سرخ قالینوں پر چلنے والے یہاں خون کی سرزمین پر حکمرانی کرتے ہیں۔
واضح رہے کہ مولانا فضل الرحمان نے عالمی مالیاتی اداروں کی غلامی اور نوآبادیاتی نظام کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنے وسائل کے فیصلوں میں آزاد نہیں رہے۔













