ایران اور امریکا کے درمیان چھ ماہ سے جاری جنگ نے عالمی معیشت کو نقصان پہنچایا، جب کہ پاکستان نے ثالثی کرکے عارضی جنگ بندی کروائی۔
جنیوا: (رائیٹ ناؤ نیوز) فروری کے آخری ہفتے میں امریکا اور ایران کے درمیان جوہری پروگرام پر مذاکرات جاری تھے جب 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل نے ایران پر حملے شروع کیے۔ اس جنگ نے عالمی اقتصادی نظام کو شدید متاثر کیا اور کئی ممالک کو سلامتی کے خطرے سے دوچار کر دیا۔
حملے کے آغاز پر امریکی صدر نے کہا کہ یہ کارروائی ایرانی حکومت کے خطرات کو ختم کرنے کے لیے ہے۔ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں 156 افراد جاں بحق ہوئے جن میں 120 بچے شامل ہیں۔
ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے اسرائیل اور امریکی فوجی اڈوں پر میزائل حملے کیے، جس کے بعد آبنائے ہرمز تقریباً بند ہو گئی۔ اس سے خلیجی ممالک کی تیل برآمدات متاثر ہوئیں اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں۔
واضح رہے کہ پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ثالثی کا کردار ادا کیا، جس سے عارضی جنگ بندی ممکن ہوئی۔ قطر نے بھی مذاکرات میں اہم کردار ادا کیا۔
یاد رہے کہ جنگ کے چھ ماہ بعد بھی دونوں ممالک کے درمیان بنیادی اختلافات برقرار ہیں، اور جنگ فوجی محاذ سے معاشی و سفارتی محاذ پر منتقل ہو چکی ہے۔















