ایس ڈی پی آئی کے مباحثے میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام پر زور دیا گیا۔ قمر زمان کائرہ اور دیگر ماہرین نے بلدیاتی نظام کی مضبوطی اور مالی خودمختاری کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناؤ نیوز) سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ پالیسی انسٹی ٹیوٹ (ایس ڈی پی آئی) کے زیر اہتمام ایک مباحثے میں نئے انتظامی یونٹس کے قیام پر گفتگو ہوئی۔ مباحثے میں ممتاز ماہرین نے شرکت کی، اور نئے صوبوں، اختیارات کی تقسیم اور مالی خودمختاری پر اظہار خیال کیا۔
تفصیلات کے مطابق، پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ نے کہا کہ پاکستان کو وسائل اور اختیارات کی تقسیم کے مسائل کا سامنا ہے۔ انہوں نے بلدیاتی نظام کو بااختیار بنانے پر زور دیا اور کہا کہ قانون میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔
قمر زمان کائرہ نے مزید کہا کہ ہمیں آئینی فریم ورک میں کام کرنا ہے اور لوکل گورنمنٹ کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں رائے عامہ کا کردار اہم ہے اور عوامی پریشر سے ادارے چلتے ہیں۔
بیرسٹر سیف نے نئے صوبوں کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی تنظیمیں شناخت پر چلتی ہیں اور مضبوط لوکل گورنمنٹ کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اتفاق رائے کے لیے کمیشن بنانے کی تجویز دی۔
یاد رہے کہ وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ 4 وزرائے اعلیٰ کو 8 ہزار 884 ارب روپے دیے گئے لیکن پیسے نیچے منتقل کرنے کا کوئی موثر نظام نہیں ہے۔ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ نئے صوبے بنانے سے پہلے موجودہ مسائل حل کرنا ضروری ہے۔














