پنجاب اور سندھ کا درآمدی گندم لینے سے انکار، وفاقی حکومت کو مشکلات کا سامنا، گندم کی قیمتیں بڑھنے کا اندیشہ۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناؤ نیوز) وفاقی حکومت نے ملکی گندم ذخائر کو مستحکم کرنے کے لیے 10 لاکھ میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ تاہم، پنجاب اور سندھ نے درآمدی گندم کی خریداری سے انکار کر دیا ہے، جس سے وفاق کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق دونوں صوبوں نے مجوزہ سہ فریقی معاہدے پر تاحال رائے نہیں دی۔ وفاقی حکومت کو فیصلہ کرنا ہے کہ درآمدی گندم کا بوجھ وفاقی وسائل سے اٹھایا جائے یا منصوبہ ترک کیا جائے۔ اس فیصلے سے مستقبل میں گندم کی قلت اور قیمتوں میں اضافے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
وفاقی کابینہ کے رکن نے کہا کہ صوبوں کو کہا گیا ہے کہ وہ اپنی گندم کی ضروریات واضح کریں۔ وفاقی حکومت کے پاس موجود ذخائر صوبوں کی تمام ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی نہیں ہیں، اس لیے گندم درآمد کرنا ناگزیر ہے۔
ذرائع کے مطابق اجلاسوں میں صوبائی نمائندوں نے کہا کہ انہیں درآمدی نہیں بلکہ وفاقی ذخائر سے مقامی گندم چاہیے۔ وفاقی حکومت نے طے کیا ہے کہ مقامی اور درآمدی گندم تمام صوبوں کو متناسب بنیادوں پر فراہم کی جائے گی۔
یاد رہے کہ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے مطابق ملک میں آٹے کی اوسط قیمت ایک سال میں 77.5 فیصد بڑھ چکی ہے۔ موجودہ ہفتے ایک کلو آٹے کی اوسط قیمت 132.50 روپے رہی، جو پچھلے سال 75 روپے تھی۔














