وفاقی وزارت پیداوار نے مہنگی چینی کی برآمد کی اجازت دے دی، جس سے قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان ہوگا۔
لاہور: (رائیٹ ناؤ نیوز) وفاقی وزارت پیداوار نے مہنگی منگوائی گئی چینی کی سستی برآمد کی اجازت دے دی ہے۔ اس فیصلے سے قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچنے کا امکان ہے۔ ڈھائی لاکھ ٹن مقامی سستی چینی برآمد کرنے کا فیصلہ نہ ہو سکا۔
ذرائع وزارت پیداوار نے بتایا ہے کہ ایک لاکھ ٹن چینی برآمد کرنے کا فیصلہ مایوس کن ہے۔ اس فیصلے کے باعث کسانوں سے گنے کی فصل خریدنے میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔
شوگر ملز مالکان نے وزارت پیداوار کو پیشگی آگاہ کر دیا ہے کہ گنے کی خریداری ممکن نہیں ہوگی۔ حکومت کی جانب سے چینی کی برآمد کے بعد مقامی مارکیٹ میں قیمتیں مستحکم رہیں گی۔
رانا تنویر نے کہا ہے کہ چینی کی برآمد سے مقامی مارکیٹ میں قیمتوں میں اضافے کا خدشہ نہیں ہے۔ وزارت خزانہ کے مطابق چینی کی برآمد بین الاقوامی ٹینڈرنگ پی پی آر اے قوانین کے تحت ہوگی۔
یاد رہے کہ پچھلے برس بھی چینی کی برآمد کے حوالے سے حکومت کو تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ چینی کی قیمتوں میں اضافے کے باعث صارفین میں بے چینی پائی جاتی تھی۔














