ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کا بڑھتا خطرہ، جعلی ویڈیوز کی شناخت کیسے ممکن؟ ماہرین کی تجاویز۔
لاہور: (رائیٹ ناؤنیوز) مصنوعی ذہانت کا غلط استعمال جیسے ڈیپ فیک ٹیکنالوجی نے خطرناک صورتحال پیدا کر دی ہے۔ ان ٹیکنالوجیز کی مدد سے جعلی ویڈیوز اور آوازیں بنا کر لوگوں کو دھوکہ دینا ممکن ہو چکا ہے۔
ڈیپ فیک کے ذریعے تیار کردہ مواد حقیقت کے قریب ہوتا ہے۔ جعل سازی کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے، جہاں لوگ رشتہ داروں یا دوستوں کی آواز نقل کر کے مالی نقصان پہنچاتے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ جعلی ویڈیوز کی شناخت کے لئے غیر معمولی علامات پر نظر رکھنا ضروری ہے۔ غیر فطری حرکات یا آوازیں مشکوک ہو سکتی ہیں۔
ڈیپ فیک کے نقصانات کی وجہ سے لوگوں کو زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ ذاتی معلومات کو محفوظ رکھنا اور مشکوک ویڈیوز کی تصدیق کرنا ضروری ہے۔
واضح رہے کہ ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کا استعمال دن بدن بڑھ رہا ہے۔ اس کے خطرات سے بچنے کے لئے ڈیجیٹل شعور اور ہوشیاری ضروری ہے تاکہ افواہوں اور مالی نقصان سے بچا جا سکے۔















