سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کا مکہ دفاعی معاہدہ؛ خطے میں نیا سیکیورٹی توازن

سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے مکہ دفاعی معاہدے سے خطے کا سیکیورٹی توازن بدل رہا ہے۔ معاہدہ خطے میں نئی جیو پولیٹیکل حرکیات کو جنم دے سکتا ہے۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کا مکہ دفاعی معاہدہ؛ خطے میں نیا سیکیورٹی توازن

مکہ مکرمہ: (رائیٹ ناؤ نیوز) سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے مکہ مکرمہ میں ایک مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ اس معاہدے کا مقصد خطے میں کسی بھی جارحیت کے خلاف اجتماعی دفاع کو مضبوط بنانا ہے۔ تینوں ممالک میں سے کسی پر بھی حملہ، سب پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

یہ معاہدہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب خطے کے ممالک امریکی سیکیورٹی ضمانتوں پر شکوک کا اظہار کر رہے ہیں۔ معاہدے کے تحت تینوں ممالک کی مشترکہ اقتصادی طاقت تقریباً 3 ٹریلین ڈالرز ہے اور ان کے پاس 20 لاکھ فوجی اہلکار موجود ہیں۔

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے اپنے دفاعی تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے لیے یہ قدم اٹھایا ہے۔ معاہدے میں فوجی تعاون اور دفاعی صنعتوں کی ترقی شامل ہے۔ اس معاہدے کو ماہرین خطے میں طاقت کے توازن میں نیا موڑ قرار دے رہے ہیں۔

واضح رہے کہ اس معاہدے کے بعد سعودی عرب نے واشنگٹن پر مکمل انحصار کرنے کے بجائے سیکیورٹی شراکت داروں کا دائرہ وسیع کیا ہے۔ معاہدے کا مقصد امریکہ کا متبادل بنانا نہیں بلکہ اضافی اسٹریٹجک آپشنز حاصل کرنا ہے۔

یاد رہے کہ حالیہ برسوں میں ایران کے خلاف امریکی کارروائیوں نے خطے کے ممالک کو اپنے دفاعی تعلقات میں تنوع لانے پر مجبور کر دیا ہے۔ اس معاہدے کو خطے میں طاقت کا نیا توازن قرار دیا جا رہا ہے۔

دیگر متعلقہ خبریں