لاہور ہائیکورٹ نے نادرا کے شہریت تنازعات میں سول عدالتوں کا اختیار ختم کر کے نادرا کی اپیل منظور کر لی۔
لاہور: (رائیٹ ناؤ نیوز) لاہور ہائیکورٹ نے نادرا اور شہریت کے تنازعات پر اہم فیصلہ سنایا ہے۔ عدالت نے مشکوک شہریت کے مقدمات میں سول عدالتوں کا دائرہ اختیار ختم کرتے ہوئے نادرا کی اپیل منظور کر لی ہے۔
فیصلے کے مطابق، مشکوک شہریت کے مقدمات میں براہِ راست سول عدالتوں سے رجوع نہیں کیا جا سکتا۔ پہلے نادرا ویریفکیشن بورڈ اور پاکستان شہریت ایکٹ 1951 کے تحت قانونی فورمز سے رجوع کرنا ضروری ہوگا۔
عدالت نے سینیئر سول جج سیالکوٹ اور ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج کے فیصلے کالعدم قرار دیتے ہوئے نادرا کی درخواست منظور کی۔ عدالت نے کہا کہ سول عدالتوں کو متبادل قانونی فورمز سے رجوع کیے بغیر ایسے دعوے سننے کا اختیار نہیں۔
واضح رہے کہ عدالت نے ہدایت کی کہ شہریت کے دعوے میں والد یا دادا کی 1979 سے قبل پاکستان میں رہائش کے مستند ثبوت پیش کرنا لازم ہوگا۔ عدالت نے نادرا ویریفکیشن بورڈز کو 60 دن کے اندر شہریوں کی درخواستوں کا فیصلہ کرنے کا پابند بنایا ہے۔
یاد رہے کہ نادرا اور شہریت کے تنازعات کا یہ فیصلہ اہم نظیر کے طور پر سامنے آیا ہے۔ عدالت نے وفاقی حکومت کو نادرا آرڈیننس میں ترمیم کی سفارش بھی کی ہے تاکہ شہریت مقدمات کے لیے خصوصی دائرہ اختیار کی شق شامل کی جا سکے۔















