سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ: سرکاری ملازم کی ترقی میں کنٹریکٹ سروس شامل نہیں

سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا ہے کہ سرکاری ملازم کی ترقی میں کنٹریکٹ سروس شامل نہیں ہوگی، یہ فیصلہ سندھ سروس ٹربیونل کے خلاف درخواست پر دیا گیا۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ: سرکاری ملازم کی ترقی میں کنٹریکٹ سروس شامل نہیں

اسلام آباد: (رائیٹ ناؤنیوز) سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا ہے کہ سرکاری ملازم کی ترقی کیلئے کنٹریکٹ سروس کو ریگولر سروس میں شمار نہیں کیا جائے گا۔ یہ فیصلہ جسٹس محمد علی مظہر نے 16 صفحات پر مشتمل تحریر کیا ہے۔

سپریم کورٹ کے فیصلے میں واضح کیا گیا ہے کہ کنٹریکٹ سروس کو سرکاری ملازم کی تعریف میں شامل نہیں کیا جا سکتا۔ ترقی کیلئے درکار مدت ملازمت کے مقصد کیلئے کنٹریکٹ سروس کو ریگولر سروس کے ساتھ نہیں جوڑا جا سکتا۔

عدالت نے کہا ہے کہ کنٹریکٹ سروس کو ریگولر سروس میں شمار کرنا قانون کی غلط تشریح ہے۔ یہ عمل کنٹریکٹ ملازمین کو ابتدا ہی سے سول سرونٹ کا درجہ دینے کے مترادف ہو گا۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ترقی کیلئے کنٹریکٹ سروس کو شامل کرنے سے سول سرونٹس ایکٹس میں سرکاری ملازمت کی تعریف متاثر ہوگی۔ سرکاری ملازمت کے حقیقی معنی سول سرونٹس ایکٹس کے دائرہ کار میں ہی رہیں گے۔

واضح رہے کہ سندھ سروس ٹربیونل کے فیصلے کے خلاف واپڈا ملازم محمد سلیم شیخ نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ عدالت نے سروس ٹربیونل کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے اپیل خارج کردی۔

دیگر متعلقہ خبریں