سپریم کورٹ نے 27 ویں آئینی ترمیم کے بعد سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت کے دائرہ اختیار پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناؤنیوز) سپریم کورٹ نے 27 ویں آئینی ترمیم کے بعد سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت کے دائرہ اختیار پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے اس کیس کا تفصیلی فیصلہ پیش کیا۔
فیصلے میں واضح کیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت ہم پلہ ہیں، ایک دوسرے کے ماتحت نہیں۔ وفاقی آئینی عدالت کے فیصلے دیگر عدالتوں پر قانونی اصولوں کے تحت لازم ہوں گے، جبکہ آرٹیکل 189 کے تحت یہ ایک دوسرے کے ماتحت نہیں بنیں گی۔
عدالتی فیصلے کے مطابق آئینی اور غیرآئینی مقدمات کو الگ الگ فورمز پر بھیجا جائے گا۔ آئینی مقدمات وفاقی آئینی عدالت اور ریگولر مقدمات سپریم کورٹ سنے گی۔ دونوں عدالتیں عدالتی احترام کا اصول اپنائیں گی تاکہ متضاد فیصلوں سے بچا جا سکے۔
یہ فیصلہ اہمیت کا حامل ہے کیونکہ یہ دونوں عدالتوں کے دائرہ اختیار کی مزید وضاحت کرتا ہے۔ آئینی درخواستوں کی اپیلیں وفاقی آئینی عدالت سنے گی جبکہ عام سول اور ریگولر اپیلوں کا اختیار سپریم کورٹ کے پاس رہے گا۔
یاد رہے کہ 27 ویں آئینی ترمیم کے بعد وفاقی آئینی عدالت کو خصوصی آئینی دائرہ اختیار حاصل ہوا ہے۔ ہائیکورٹ کے آئینی نوعیت کے فیصلوں کی اپیلیں وفاقی آئینی عدالت منتقل تصور ہوں گی، جبکہ کچھ معاملات اس کے اختیار سے مستثنیٰ ہوں گے۔















