پاکستانی کاٹن ایکسچینج کی عمارت 4 ماہ سے سربمہر ہے، جس سے ملک عالمی کاٹن مارکیٹس میں نمائندگی سے محروم ہے۔
کراچی: (رائیٹ ناوٴ نیوز)۔ امریکا ایران کشیدگی کے باعث پاکستانی کاٹن کی درآمدات متاثر ہوئی ہیں۔ 4 ماہ سے کاٹن ایکسچینج کی عمارت سربمہر ہونے سے کے سی اے اسپاٹ ریٹ بھی معطل ہیں۔
کاٹن ایسوسی ایشن کی اسپاٹ ریٹ کے عدم اجراء کے سبب پاکستان عالمی کاٹن مارکیٹس میں نمائندگی سے محروم ہے۔ اس صورتحال نے مقامی بینکنگ انڈسٹری اور انشورنس کمپنیوں کو مشکلات میں ڈال دیا ہے۔
حکام کے مطابق کے سی اے کی بلڈنگ ملکیتی تنازع کے باعث سربمہر ہے اور عدالت میں کیس زیر سماعت ہے۔ عمارت ڈی سیل نہ ہونے سے کاٹن اسپاٹ ریٹ کا اجراء معطل ہے۔
یہ مسئلہ مقامی ٹیکسٹائل ملوں کے لیے اہم ہے کیونکہ ان کی پیداوار متاثر ہو رہی ہے۔ عالمی مارکیٹ میں پاکستان کی نمائندگی نہ ہونے کی وجہ سے برآمدات متاثر ہو رہی ہیں۔
یاد رہے کہ پاکستان میں کپاس کی پیداوار میں کمی کا سامنا ہے۔ گنے کی کاشت کی وجہ سے کپاس کا معیار متاثر ہو رہا ہے اور کاٹن ایکسپورٹس میں بھی کمی آ رہی ہے۔















