اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان 1979 کے بعد پہلی اعلیٰ سطحی ملاقات ہوئی، جو دونوں ممالک کے تعلقات میں اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) امریکا اور ایران کے اعلیٰ حکام کے درمیان اسلام آباد میں تاریخی مذاکرات ہوئے۔ یہ ملاقات 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
2015 کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب دونوں ممالک کے نمائندے براہِ راست ملاقات کر رہے ہیں۔ اس سے قبل ایران کے جوہری پروگرام پر معاہدہ ہوا تھا، جسے 2018 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ختم کر دیا تھا، جس سے کشیدگی بڑھی۔
معاہدے کے خاتمے کے بعد ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے امریکا کے ساتھ براہِ راست مذاکرات پر پابندی عائد کر دی تھی۔ اب حالیہ ملاقات کو دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات میں بہتری کی امید کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
یہ ملاقات اس لیے بھی اہم ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات کی تاریخ کئی دہائیوں پر محیط ہے۔ 1951 میں ایران میں تیل کے وسائل پر قومیانے کی تحریک نے مغربی طاقتوں کے ساتھ اختلافات پیدا کیے تھے۔
یاد رہے کہ 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد سے دونوں ممالک کے تعلقات میں مسلسل کشیدگی رہی ہے۔ 1980 کے تہران میں امریکی سفارتخانے پر قبضے اور 1990 کی دہائی میں اقتصادی پابندیوں کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات مزید خراب ہوئے۔












