ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے جنگ بندی کا اعلان کیا، مگر حملوں کا امکان باقی ہے۔
تہران: (رائیٹ ناوٴ نیوز) ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے امریکا کے ساتھ دو ہفتوں کی جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے اور اپنی تمام فوجی یونٹس کو فائرنگ روکنے کا حکم دے دیا ہے۔
ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے کے ذریعے جاری بیان میں مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی، تاہم تمام فوجی شاخیں سپریم لیڈر کے حکم کی پابندی کرتے ہوئے فائر بندی کریں۔ ایران نے واضح کیا کہ اس سیزفائر کا مطلب جنگ کا خاتمہ نہیں اور اگر امریکا یا اسرائیل کی جانب سے کسی بھی قسم کی کارروائی کی گئی تو فوری اور بھرپور جواب دیا جائے گا۔
ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل نے بھی اپنے بیان میں کہا کہ جنگ بندی کو جنگ کے خاتمے سے تعبیر نہ کیا جائے۔ کونسل نے کہا کہ ”ہمارے ہاتھ ٹریگر پر موجود ہیں، دشمن کی معمولی غلطی کا بھی بھرپور جواب دیا جائے گا۔“
واضح رہے کہ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل نے ایران پر مشترکہ حملہ کیا تھا، جس میں جنگ کے پہلے ہی روز سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای جاں بحق ہوگئے تھے۔ گزشتہ 39 دنوں کے دوران اس تنازع میں مختلف ممالک میں متعدد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
ایرانی حکام نے اس صورتحال کو ”میدان جنگ میں دشمن کی شکست“ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر مذاکرات کے ذریعے ٹھوس سیاسی کامیابی حاصل ہوئی تو اسے تاریخی فتح کے طور پر منایا جائے گا، بصورت دیگر جنگ مطالبات کی تکمیل تک جاری رہے گی۔











