جاپان میں اسرائیلی سفارت خانے نے ایٹم بم متاثرین کی تنظیموں کا ایران مخالف جنگ پر بیان مسترد کر دیا، جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کی مہم پر سوالات۔
ٹوکیو: (رائیٹ ناوٴ نیوز) جاپان میں اسرائیلی سفارت خانے نے ایٹم بم متاثرین کی 4 نمائندہ تنظیموں کا بیان وصول کرنے سے انکار کر دیا جس میں ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ یہ بیان ناگاساکی پریفیکچر سے سفارت خانے کو بھیجا گیا تھا، لیکن اسے واپس کر دیا گیا۔
ناگاساکی ایٹم بم سروائیورز کونسل کے سربراہ 85 سالہ شیگیمتسو تاناکا نے کہا کہ دستاویز پڑھے بغیر واپس کر دی گئی۔ ان کے بقول اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سفارت خانہ تنقیدی آواز سننے کے بجائے زیادہ بند ذہنیت اختیار کر رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ بیان 4 گروپوں کی جانب سے تیار کیا گیا تھا جو ایٹمی حملوں کے متاثرین کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان تنظیموں نے ایران پر جنگی کارروائیوں پر تشویش ظاہر کی اور اپنا احتجاج سفارتی سطح پر ریکارڈ کرانے کی کوشش کی تھی۔
یہ معاملہ اس لیے بھی اہم سمجھا جا رہا ہے کیونکہ جاپانی ایٹم بم متاثرین طویل عرصے سے جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کی مہم چلاتے رہے ہیں۔ ایسے میں ان کے احتجاجی بیان کو قبول نہ کرنا اختلاف رائے کی گنجائش اور ایران جنگ پر عالمی ردعمل کے حوالے سے سوالات اٹھا رہا ہے۔
واضح رہے کہ ہیروشیما اور ناگاساکی دوسری عالمی جنگ کے آخری دنوں میں امریکی ایٹم بم حملوں سے تباہ ہوئے تھے۔ انہی حملوں کے زندہ بچ جانے والے افراد جوہری ہتھیاروں کی عالمی پابندی کے لیے متحرک رہے اور آج بھی اسی مؤقف کو آگے بڑھا رہے ہیں۔












