لندن ہائی کورٹ کے حکم پر یوٹیوبر عادل راجہ نے بریگیڈئیر راشد نصیر کو بدنام کرنے کے الزامات تسلیم کرلیے ہیں اور جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
لندن: (رائیٹ ناوٴ نیوز) عدالتی حکم کے بعد یوٹیوبر عادل راجہ نے بریگیڈئیر ریٹائرڈ راشد نصیر کو بدنام کرنے کے الزامات تسلیم کرلیے ہیں۔
لندن ہائی کورٹ نے عادل راجہ کو عدالتی احکامات پر عمل درآمد نہ کرنے کی صورت میں توہین عدالت کا سامنا کرنے کا انتباہ دیا ہے، جس کے تحت انہیں جرمانہ، جیل کی سزا یا اثاثے ضبط کرنے کا سامنا ہوسکتا ہے۔
عادل راجہ نے سوشل میڈیا پر اپنے خلاف فیصلے کا خلاصہ شائع کیا ہے، جس میں راشد نصیر کے خلاف الزامات کا کوئی دفاع نہیں کیا گیا۔ عدالت کے فیصلے کے مطابق معافی 28 دنوں تک ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ویب سائٹ پر جاری رہے گی۔
عدالت نے 9 اکتوبر 2025 کو عادل راجہ کو بریگیڈئیر ریٹائرڈ راشد نصیر کو 50 ہزار پاؤنڈ ادا کرنے کا حکم دیا تھا، اور ساتھ ہی انہیں ہدایت کی تھی کہ وہ بریگیڈئیر نصیر یا ان کے متعلق کوئی بیان شائع نہ کریں۔
عدالت نے عادل راجہ کو 22 دسمبر تک بریگیڈئیر ریٹائرڈ راشد نصیر کو 50 ہزار پاؤنڈ ہرجانے کے طور پر ادا کرنے اور ابتدائی عدالتی اخراجات کے ضمن میں 2 لاکھ 60 ہزار پاؤنڈ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔















