لاہور ہائیکورٹ نے سرگودھا دربار قتل کیس میں چار مجرموں کی 20 بار سزائے موت برقرار رکھی، فیصلہ شواہد کی بنیاد پر ہوا۔
لاہور: (رائیٹ ناؤنیوز) لاہور ہائیکورٹ نے سرگودھا میں دربار کی گدی کے تنازع پر قتل کے مقدمے میں چار مجرموں کی اپیلیں مسترد کر دیں۔ عدالت نے 20 بار سزائے موت کا فیصلہ برقرار رکھا۔
جسٹس شہباز رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے فیصلہ سنایا۔ پراسکیوٹر راحیلہ شاہد نے حکومت کی جانب سے دلائل پیش کیے۔ فیصلہ 25 صفحات پر مشتمل ہے۔
عدالت نے کہا کہ جرم کی ہولناکی انصاف کی آنکھوں پر پردہ نہیں ڈال سکتی۔ شواہد کی بنیاد پر فیصلہ کیا گیا۔ ایف آئی آر کے فوری اندراج نے جھوٹے مقدمے کے امکان کو ختم کر دیا۔
عدالت نے زخمی گواہ کے بیان کو اہم قرار دیا اور کہا کہ خون آلود ہتھیاروں کی موجودگی نے استغاثہ کا مقدمہ مضبوط کیا۔ تمام شواہد طبی طور پر مطابقت رکھتے ہیں۔
واضح رہے کہ دربار کی گدی نشینی کے تنازع نے اس قتل عام کا باعث بنا۔ عدالت نے چاروں مجرموں کی سزائے موت برقرار رکھی تاکہ مستقبل میں ایسے جرائم کی روک تھام ہو سکے۔















