AI عینکوں کی فوری شناخت کی صلاحیت نے پرائیویسی کے خدشات بڑھا دیے ہیں، ہر چہرہ ڈیٹا سیٹ بنتا جا رہا ہے۔
ایمسٹرڈیم: (رائیٹ ناوٴ نیوز) آپ اسلام آباد کی مارکیٹ میں گھوم رہے ہیں تو کیا آپ اپنے سامنے سے گزرنے والے ہر شخص کو شناخت کر نے کی اہلیت حاصل کر سکتے ہیں؟ بالکل جدید ٹیکنالوجی نے یہ کام آسان بنا دیا ہے کہ آپ آسانی سے ایک اجنبی کو شناخت کر سکیں۔
یورپ میں ایک ڈچ صحافی نے ایسی اسمارٹ عینک کا تجربہ کیا ہے جو مصنوعی ذہانت کی مدد سے سڑکوں پر اجنبی افراد کی فوری شناخت کر لیتی ہے۔ اس عینک کے ذریعے صرف کسی شخص کی طرف دیکھنے سے چند سیکنڈز میں اس کا نام، سوشل میڈیا پروفائلز، پس منظر اور لنکڈ اِن کی تفصیل سامنے آ جاتی ہے۔
یہ ٹیکنالوجی کسی سرکاری ڈیٹا بیس یا پولیس سسٹم پر منحصر نہیں بلکہ صرف عوامی ڈیٹا اور عام دستیاب مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کا استعمال کرتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس کا خطرناک پہلو یہ ہے کہ اسے روکنا ممکن نہیں، کیوں کہ جب تک یہ عینکیں دستیاب رہیں گی، صارف کسی بھی شخص کی کھلی عام معلومات تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق فوری شناخت کی یہ صلاحیت اس حد تک پہنچ گئی ہے کہ ہر چہرہ ایک ڈیٹا سیٹ میں بدل جاتا ہے۔ عوامی جگہوں میں لوگوں کو دیکھنے اور انہیں جاننے کے درمیان موجود رسمی حد تقریباً ختم ہو چکی ہے، جس سے پرائیویسی کے بارے میں نئے سوالات پیدا ہو رہے ہیں۔
پاکستان میں بھی ڈیجیٹل پرائیویسی کے ماہرین اس پیش رفت پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ملک میں پہلے ہی بغیر اجازت نگرانی، چہرہ شناس ٹیکنالوجی اور ڈیٹا لیک جیسے مسائل سامنے آ چکے ہیں۔ ایسی اسمارٹ عینکیں اگر بغیر ضابطوں کے عام ہو گئیں تو شہریوں کی نجی معلومات لمحوں میں سب کے سامنے آنے کا خدشہ بڑھ جائے گا۔
مارکیٹ میں مصنوعی ذہانت سے چلنے والی اسمارٹ عینکوں کی تیزی سے بڑھتی دستیابی نے دنیا بھر میں اخلاقی اور قانونی مباحث کو جنم دیا ہے۔ اس سال ستمبر میں میٹا نے 799 ڈالر قیمت کی میٹا رے بین ڈسپلے عینکیں متعارف کرائیں جن میں بلٹ اِن ڈسپلے موجود ہے۔ اسی مقابلے میں چینی کمپنی علی بابا نے بھی کوارک AI کے تحت S1 اور G1 کے دو نئے ورژن پیش کیے ہیں۔















