اسلام آباد میں حادثے کی شکار دو لڑکیوں کے خاندانوں نے جج کے بیٹے کو معاف کردیا، عدالت نے ضمانت منظور کر لی۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) اسلام آباد میں جج کے بیٹے کی گاڑی سے جاں بحق ہونے والی دو لڑکیوں کے خاندانوں نے ملزم ابوذر کو معاف کر دیا ہے۔ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں جوڈیشل مجسٹریٹ شائستہ کنڈی کے سامنے پیشی کے دوران متاثرہ خاندانوں نے معافی کا اعلان کیا، جس کے بعد ملزم کی ضمانت منظور کر لی گئی۔
عدالت میں ایک لڑکی کے بھائی نے زبانی بیان دیا جبکہ والدہ کا آن لائن بیان ریکارڈ کیا گیا۔ دوسری جاں بحق لڑکی کے والد نے بھی عدالت میں بیان دیا۔ صلح ہونے کے بعد عدالت نے ملزم کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیا۔
حادثہ تیز رفتار سفید لینڈ کروزر کے اسکوٹی کو ٹکر مارنے سے پیش آیا۔ گاڑی چلانے والا 16 سالہ ابوذر، اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج کا بیٹا ہے۔ حادثے کا مقدمہ جاں بحق لڑکی ثمرین کے بھائی کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا۔
پولیس کے مطابق ملزم نے بیان دیا کہ حادثے کے وقت وہ اسنیپ چیٹ پر ویڈیو بنا رہا تھا۔ ملزم کے پاس ڈرائیونگ لائسنس بھی موجود نہیں تھا۔















