سپریم کورٹ نے 36 سال پرانی انتخابی نظام کی درخواست نمٹا دی، وفاقی حکومت کی درخواستوں کے واپس لینے پر فیصلہ سنایا گیا۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز)
سپریم کورٹ نے انتخابی نظام کو غیر اسلامی قرار دینے کی 36 سال پرانی درخواست نمٹا دی۔ جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں پانچ رکنی شریعت اپیلیٹ بینچ نے کیس سنا اور وفاقی حکومت کی درخواستوں کے واپس لینے کی بنیاد پر فیصلہ سنایا۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ شریعت کورٹ کی نشاندہی کردہ قوانین اب ختم ہو چکے ہیں اور الیکشن ایکٹ 2017 نافذ العمل ہے، اسی لیے اپیلیں واپس لی جارہی ہیں۔
یہ درخواست 36 سال قبل دائر کی گئی تھی، جس میں انتخابی نظام کو غیر اسلامی قرار دیا گیا تھا۔ حکومت نے شریعت کورٹ کے فیصلے کے خلاف 1989 میں اپیلیں دائر کی تھیں۔














