بلند کارپوریٹ ٹیکس غیر ملکی سرمایہ کاری کو متاثر کر رہے ہیں، نیشنل کوآرڈینیٹر نے کاروباری رہنماؤں کے تحفظات تسلیم کیے۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) بھاری کارپوریٹ ٹیکس ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری کو متاثر کر رہے ہیں۔ نیشنل کوآرڈینیٹر لیفٹیننٹ جنرل سرفراز احمد ایس آئی ایف سی نےدو روزہ اقتصادی ڈائیلاگ کے دوران کاروباری رہنماؤں کے تحفظات تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ کئی کمپنیوں کے لئے مؤثر ٹیکس ریٹ 50 فیصد تک پہنچ جاتا ہے، جو سرمایہ کاری کی راہ میں رکاوٹ بنتا ہے۔
ایف بی آر چیئرمین راشد محمود لنگڑ یال نے اجلاس میں بتایا کہ ٹیکس شرح میں کمی کا انحصار بہتر ٹیکس کمپلائنس پر ہوگا تاکہ 1.6 ٹریلین روپے کے ممکنہ ریونیو نقصان کا ازالہ کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سپر ٹیکس کے خاتمے اور مختلف ٹیکس شرحوں میں کمی کی طرف بڑھ رہی ہے، مگر یہ اسی وقت ممکن ہے جب وصولیوں میں بہتری آئے۔
لیفٹیننٹ جنرل سرفراز نے کہا کہ غیر ملکی سرمایہ کاری اس وقت آئے گی جب مقامی سرمایہ کار اعتماد کے ساتھ آگے بڑھیں۔ انہوں نے مقامی کاروباری برادری سے اپیل کی کہ وہ قابلِ عمل منصوبے پیش کریں تاکہ حکومت انہیں درست سرمایہ کاروں اور ممالک سے جوڑ سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ خلیجی ممالک خصوصاً سعودی عرب کے سرمایہ کار پارٹنرز کے انتخاب میں واضح رہنمائی چاہتے ہیں۔
ایف بی آر چیئرمین نے مزید بتایا کہ حکومت 2028 تک ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح کو 18 فیصد تک بڑھانے کا ہدف رکھتی ہے جس میں 13.85 فیصد ایف بی آر، 3 فیصد صوبے اور بقیہ حصہ پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی سے حاصل ہوگا۔ پاکستان بزنس کونسل کی چیئرپرسن ڈاکٹر زیلاف منیر اور سی ای او جاوید قریشی نے بھی معیشت کی بہتری کے لیے تعاون اور اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا۔













