بھارتی فوج میں ہندو مذہبی اثرات کا بڑھتا ہوا رجحان

بھارتی فوج میں ہندو مذہبی اثرات بڑھنے سے غیر جانبداری متاثر ہو رہی ہے، اقلیتوں پر دباؤ اور سیاسی رجحان کے فروغ نے سوالات اٹھا دیے ہیں۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک

نئی دہلی: (رائیٹ ناوٴ نیوز) بھارت میں بی جے پی حکومت کے دوران بھارتی فوج میں ہندو مذہبی اثرات بڑھنے سے فوج کی غیر جانبداری اور سیکولر روایات متاثر ہو رہی ہیں۔ فوجی رہنماؤں کی جانب سے سیاسی بیانات اور مذہبی رسومات میں شرکت کا رجحان بھارتی فوج کو سیاسی اور مذہبی ایجنڈوں کے تابع کر رہا ہے۔

جنوری 2025 میں دہلی کے ساؤتھ بلاک میں بھارتی آرمی چیف کے لاؤنج میں تاریخی 1971 کی جنگ کی پینٹنگ کی جگہ ہندو مذہبی کرداروں کے ساتھ نئی پینٹنگ رکھی گئی۔ دسمبر 2024 میں لداخ کے قریب ہندو بادشاہ شیو جی کی مورتی نصب کی گئی۔

آرمی چیف اور دیگر افسران ہندو مذہبی تقریبات میں حصہ لے رہے ہیں، جیسے قومی یکجہتی دن پر آرمی چیف کو تِلک اور مالا دی گئی۔ مئی 2025 میں آرمی چیف نے ہندو رہنما رمبھدرچاریہ کے آشرم کا دورہ کیا۔

فوجی آپریشنز کے نام ہندو مذہبی اصطلاحات پر رکھے گئے ہیں۔ بی جے پی کے بیانات کی تائید کرتے ہوئے فوجی رہنماؤں نے پاکستان کے خلاف بیان بازی کی۔ اگن پاتھ اسکیم کے تحت نئے بھرتیوں کا تعلق ہندو قوم پرست تنظیموں سے جوڑا جا رہا ہے۔

سینک اسکولز میں بھی ہندو قوم پرست تنظیموں کا اثر بڑھ رہا ہے۔ اقلیتوں پر ہندو رسومات میں حصہ لینے کا دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ ایک عیسائی افسر کو رسومات میں حصہ نہ لینے پر برطرف کیا گیا۔

دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ ہندو قوم پرستی کے اثرات فوج کی غیر جانبداری، سیکولر روایات اور پیشہ ورانہ یکجہتی کو متاثر کر رہے ہیں۔

دیگر متعلقہ خبریں