کیا ویپنگ سگریٹ نوشی سے چھٹکارہ پانے کا محفوظ متبادل ہے؟

یار، صرف ایک پف ہے، کچھ نہیں ہوتا۔

لاہور کی کسی یونیورسٹی کے ہاسٹل، کراچی کے کیفے یا اسلام آباد میں دوستوں کی محفل میں یہ جملہ عموماًً سنائی دیتا ہے۔ ایک نوجوان ویپ ساتھی کلاس فیلو کو ویپ پکڑاتا ہے تو دوسرا کہتا ہے کہ وہ سگریٹ نہیں پیتا، تو جواب ملتا ہے، ” یہ سگریٹ تھوڑی ہے، صرف فلیور ہے۔ “چند لمحوں بعد آم، اسٹرابیری یا پودینے کی خوشبو دھوئیں کے مرغولے میں چار سو پھیل جاتی ہے اور پہلی بار ویپ آزمانے والا خود کو کسی نشے کا آغاز کرتے نہیں، بلکہ صرف ایک نئی اور جدید چیز آزماتے ہوئے دیکھتا ہے۔
یہی تصور ویپنگ کے پھیلاؤ کی اصل وجہ ہے۔ ویپ کو سگریٹ کی طرح بدبودار، گندا یا پرانا نہیں دکھایا گیا بلکہ ایک خوبصورت ڈیزائن، رنگین فلیور اور”کول “طرز زندگی کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

مگر سوال یہ ہے کہ جس پروڈکٹ کو بالغ سگریٹ نوش افراد کے لیے نقصان کم کرنے کے ذریعے کے طور پر متعارف کرایا گیا تھا، وہ سگریٹ نہ پینے والے نوجوان کے ہاتھ میں کیسے پہنچ گئی؟ اور کیا ویپ واقعی سگریٹ چھوڑنے کا محفوظ متبادل ہے، یا صرف نکوٹین لینے کی شکل بدل دیتی ہے؟

کیا ویپنگ کا عام سگریٹ سے” 95 فیصد کم نقصان دہ ہونے “کا دعویٰ درست ہے؟

اگر آپ نے کبھی ویپ کے بارے میں بحث سنی ہو تو غالباً ایک جملہ ضرور کانوں میں پڑا ہوگا، کہ” ویپ سگریٹ کے مقابلے میں 95 فیصد کم نقصان دہ ہے۔“ یہی وہ دعویٰ ہے جس نے دنیا بھر میں ویپنگ کے بارے میں مثبت رائے بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔اس دعوے کی بنیاد 2015 میں برطانیہ کے ادارے پبلک ہیلتھ انگلینڈ کی ایک رپورٹ تھی۔ رپورٹ میں دستیاب سائنسی شواہد کا جائزہ لینے کے بعد کہا گیا تھا کہ ای سگریٹ، روایتی سگریٹ کے مقابلے میں تقریباً 95 فیصد کم نقصان دہ ہو سکتی ہے۔

لیکن اصل مسئلہ یہیں سے شروع ہوا۔وقت گزرنے کے ساتھ لوگوں نے اس رپورٹ کا صرف ایک حصہ یاد رکھا، یعنی” 95 فیصد کم نقصان“۔ آہستہ آہستہ یہ جملہ بدل کر ”ویپ محفوظ ہے“بن گیا، حالانکہ رپورٹ میں ایسی کوئی بات نہیں کہی گئی تھی۔

رپورٹ دراصل ایک ایسے شخص کے بارے میں تھی جو پہلے ہی سگریٹ نوشی کر رہا ہے۔ اس میں جلتے ہوئے تمباکو سے پیدا ہونے والے زہریلے دھوئیں کا موازنہ ویپ سے کیا گیا تھا۔ یعنی سوال یہ تھا کہ اگر ایک سگریٹ نوش مکمل طور پر ویپ پر منتقل ہو جائے تو کیا اس کا نقصان کم ہو سکتا ہے؟ یہ سوال ہرگز یہ نہیں تھا کہ کیا ہر شخص، خاص طور پر وہ نوجوان جس نے کبھی سگریٹ نہیں پی، بے فکر ہو کر ویپ استعمال کرنا شروع کر دے۔

اسی فرق کو بعد میں برطانیہ کی 2022 کی سرکاری سائنسی جائزہ رپورٹ نے بھی واضح کیا۔ اس کے مطابق موجودہ شواہد یہ بتاتے ہیں کہ مختصر اور درمیانی مدت میں ویپنگ، سگریٹ نوشی کے مقابلے میں کم نقصان دہ ہو سکتی ہے، لیکن اس کے طویل مدتی اثرات پر تحقیق ابھی جاری ہے۔ اس کے علاوہ ہر ویپ ایک جیسی نہیں ہوتی۔ نکوٹین کی مقدار، مائع کے اجزا، فلیورز اور ڈیوائس کا معیار بھی خطرات میں اضافہ کرسکتے ہیں۔

بدقسمتی سے ایک جزوی ریسرچ سٹڈی کی من چاہی تفہیم ویپنگ کے استعمال میں اضافہ کا موجب بن گئی ۔ سوشل میڈیا پر صرف” 95 فیصد کم نقصان“والا جملہ وائرل ہوا، دکانوں میں اسے فروخت کا نعرہ بنا لیا گیا، اور دوستوں کی محفلوں میں یہ”ویپ تو محفوظ ہے“ میں تبدیل ہو گیا۔ شاید یہی وہ غلط فہمی ہے جس نے لاکھوں نوجوانوں کو یہ یقین دلا دیا کہ وہ نکوٹین کی ایک نئی عادت نہیں، بلکہ ایک بے ضرر فیشن آزما رہے ہیں۔

سگریٹ اور ویپ میں اصل فرق کیا ہے؟

روایتی سگریٹ میں تمباکو جلتا ہے۔ اس جلنے سے دھواں، تارکول، کاربن مونو آکسائیڈ اور بہت سے زہریلے مادے پیدا ہوتے ہیں۔ ویپ میں تمباکو جلانے کے بجائے ایک مائع کو گرم کیا جاتا ہے، جس سے سانس کے ذریعے اندر جانے والا ایروسول بنتا ہے۔

یہ فرق اہم ہے کیونکہ سگریٹ سے ہونے والے بڑے نقصانات کا تعلق تمباکو جلنے سے پیدا ہونے والے مادوں سے ہے۔ برطانوی نیشنل ہیلتھ سروس کے مطابق ویپ سے تارکول اور کاربن مونو آکسائیڈ پیدا نہیں ہوتے اور اسی وجہ سے یہ سگریٹ کے مقابلے میں کہیں کم نقصان دہ ہو سکتی ہے۔ لیکن ادارہ ساتھ ہی واضح کرتا ہے کہ ویپ مکمل طور پر بے ضرر نہیں اور غیر سگریٹ نوش افراد کے لیے اس کی سفارش نہیں کی جاتی۔

یہاں ”بخارات“کا لفظ بھی غلط فہمی پیدا کرتا ہے۔ ویپ سے نکلنے والا مادہ صرف خوشبودار پانی نہیں ہوتا۔ اس میں نکوٹین، پروپیلین گلائکول، ویجیٹیبل گلیسرین، فلیور بنانے والے کیمیائی مادے اور باریک ذرات شامل ہو سکتے ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق ای سگریٹ مائع کو گرم کرکے ایسا ایروسول بناتی ہیں جس میں صحت کے لیے نقصان دہ اضافی مادے اور کیمیائی اجزا ہو سکتے ہیں۔

یوں سمجھیں کہ سگریٹ اور ویپ میں فرق آگ اور گرم کوائل کا ہے۔ آگ زیادہ زہریلے مادے پیدا کرتی ہے، مگر گرم کوائل سے بننے والا ایروسول بھی صاف ہوا نہیں بن جاتا۔

کیا والدین بھی ویپنگ کے حوالے سے غلط فہمی کا شکار ہیں؟

اس پوری کہانی کا سب سے خاموش مگر اہم کردار والدین ہیں۔ پاکستان میں بہت سے والدین جب پہلی بار اپنے بچے کے ہاتھ میں ویپ دیکھتے ہیں تو اسے سگریٹ نہیں سمجھتے۔ ان کے نزدیک یہ بس ایک خوشبو یا پھلوں کے ذائقے والی جدید ڈیوائس ہوتی ہے۔ اگر کوئی انہیں بتائے کہ ان کا بچہ ویپ استعمال کر رہا ہے تو اکثر جواب یہی ہوتا ہے، “یہ تو صرف فلیور ہے، اس سے کیا ہوتا ہے؟ بچے نے بھی یہی بتایا ہے کہ یہ سگریٹ نہیں۔” یہی غلط فہمی مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ویپ چاہے سگریٹ کی طرح تمباکو جلا کر دھواں پیدا نہیں کرتی، لیکن بہت سی ویپس میں نکوٹین موجود ہوتی ہے اور یہی نکوٹین عادت پیدا کرنے کا بنیادی سبب بن سکتی ہے۔
کیا ویپ واقعی سگریٹ چھوڑنے میں مدد دیتی ہے؟

اس سوال کا جواب چند اہم شرطوں کے ساتھ ہاں ہے۔ کوکرین کے 2025 کے تازہ تحقیقی جائزے کے مطابق نکوٹین والی ای سگریٹ بعض بالغ افراد کو کم از کم 6 ماہ تک سگریٹ چھوڑنے میں مدد دے سکتی ہیں۔ دستیاب مطالعات میں ویپنگ، نکوٹین چیونگم یا پیچ کے مقابلے میں بھی زیادہ مؤثر ثابت ہوئیں۔

اس کا عملی مطلب ایک مثال سے سمجھا جا سکتا ہے۔ ایک 45 سالہ شخص 20 سال سے روزانہ ایک پیکٹ سگریٹ پیتا ہے۔ اگر وہ سگریٹ مکمل چھوڑ کر ضابطے کے تحت تیار کی گئی ویپ استعمال کرتا ہے، نکوٹین کی مقدار بتدریج کم کرتا ہے اور طبی مدد بھی لیتا ہے، تو اس کے لیے یہ نقصان کم کرنے کا راستہ بن سکتا ہے۔

لیکن اگر وہ سگریٹ بھی پیتا رہے اور ساتھ ویپ بھی استعمال کرے تو فائدہ محدود ہو جاتا ہے۔ برطانوی طبی اداروں کی تجویز صاف کہتی ہے کہ ویپ استعمال کرنے والے شخص کو تمباکو نوشی مکمل طور پر چھوڑنی چاہیے، کیونکہ تھوڑی مقدار میں سگریٹ نوشی بھی نقصان دہ رہتی ہے۔

ویپ اس وقت سگریٹ چھوڑنے کا ذریعہ ہے جب اس کا مقصد، مدت اور اگلا قدم واضح ہو۔ اگر سگریٹ کے ساتھ ایک نئی ڈیوائس بھی روزمرہ عادت بن جائے تو یہ علاج نہیں، دوہرا استعمال ہے۔

تو کیا ویپنگ بھی سگریٹ نوشی کی طرح انسانی صحت کے لئے نقصان دہ ہے؟

ویپنگ کے نقصان دہ ہونے کی پہلی وجہ نکوٹین ہے۔ یہ ایک ایسا کیمیائی مادہ ہے جو دماغ میں خوشی اور سکون کا احساس پیدا کرنے والے نظام کو متحرک کرتا ہے۔ جب کوئی شخص ویپ کا کش لیتا ہے تو دماغ ایک ایسا کیمیائی مادہ خارج کرتا ہے جس سے وقتی طور پر اچھا، ہلکا یا پرسکون محسوس ہو سکتا ہے۔ یہی احساس دماغ کو بار بار اسی تجربے کی طرف لے جاتا ہے۔ ابتدا میں نوجوان کو لگتا ہے کہ ویپ امتحان کے دوران توجہ بڑھا رہی ہے یا ذہنی دباؤ کم کر رہی ہے، مگر جب عادت بن جاتی ہے تو کئی مرتبہ جو سکون محسوس ہوتا ہے، وہ دراصل نکوٹین کی کمی سے پیدا ہونے والی بے چینی ختم ہونے کا احساس ہوتا ہے، نہ کہ واقعی ذہنی دباؤ کم ہونے کا۔
دوسری وجہ یہ ہے کہ ہر ویپ ایک جیسی نہیں۔ نکوٹین کی مقدار، مائع کا معیار، کوائل کی حرارت اور فلیورنگ کیمیکل مختلف ہو سکتے ہیں۔ غیر معیاری ویپنگ مصنوعات میں صارف کو معلوم بھی نہیں ہوتا کہ ہر کش کے ساتھ کتنی نکوٹین جسم میں جا رہی ہے۔
تیسری وجہ طویل مدتی تحقیق کی حد ہے۔ سگریٹ کے نقصانات کئی دہائیوں کے شواہد سے واضح ہوئے، جبکہ جدید ویپنگ نسبتاً نئی ہے۔ اسی لیے ویپنگ کے انسانی جسم پر دورس نقصان دہ نتائج اور مکمل نقصانات کی تفصیل سامنے نہیں آئی۔

بالغ سگریٹ نوش اور نوجوان کا حساب ایک کیوں نہیں؟

یہ شاید ویپنگ کی پوری بحث کا سب سے اہم نکتہ ہے، کیونکہ اکثر لوگ یہی فرق سمجھ نہیں پاتے۔ فرض کریں دو افراد کے ہاتھ میں ایک ہی ویپ ہے۔ ایک کی عمر 45 سال ہے اور وہ پچھلے 20 برس سے روزانہ ایک پیکٹ سگریٹ پی رہا ہے۔ دوسرا 18 سال کا یونیورسٹی کا طالب علم ہے، جس نے زندگی میں کبھی سگریٹ نہیں پی۔ بظاہر دونوں ایک ہی چیز استعمال کر رہے ہیں، لیکن حقیقت میں دونوں کی صورتحال بالکل مختلف ہے۔

45سالہ شخص پہلے ہی سگریٹ نوشی کے بڑے خطرات سے دوچار ہے۔ اگر وہ سگریٹ مکمل طور پر چھوڑ کر ویپ استعمال کرتا ہے تو اس کے لیے نقصان کم ہونے کا امکان ہو سکتا ہے۔ لیکن دوسرے نوجوان کے لیے معاملہ الٹ ہے۔ وہ کسی خطرے کو کم نہیں کر رہا بلکہ پہلی بار نکوٹین اور دیگر کیمیائی مادے اپنے جسم میں داخل کر رہا ہے۔

اسی لیے عالمی ادارۂ صحت واضح کرتا ہے کہ جو بچے اور نوجوان پہلے سے نکوٹین استعمال نہیں کرتے، انہیں ویپنگ سے دور رہنا چاہیے۔ وجہ یہ ہے کہ کم عمری میں نکوٹین دماغ کی نشوونما کو متاثر کر سکتی ہے اور یادداشت، توجہ، سیکھنے کی صلاحیت اور جذبات پر قابو رکھنے کے عمل پر اثر ڈال سکتی ہے۔

یوں ایک ہی ویپ دو مختلف لوگوں کے ہاتھ میں دو مختلف معنی رکھتی ہے۔ ایک بالغ سگریٹ نوش کے لیے یہ سگریٹ چھوڑنے کی کوشش کا حصہ ہو سکتی ہے، جبکہ ایک نوجوان کے لیے یہی ویپ نکوٹین کی عادت کا نقطۂ آغاز بن سکتی ہے۔

پاکستان میں بھی یہی فرق اکثر نظر انداز ہو جاتا ہے۔ زیادہ تر نوجوان ویپ اس لیے نہیں خریدتے کہ وہ سگریٹ چھوڑنا چاہتے ہیں۔ ان کی کہانی عموماً”صرف ایک پف “سے شروع ہوتی ہے۔ دوستوں کی محفل، یونیورسٹی کا ہاسٹل، کیفے، گیمنگ، امتحان کا دباؤ یا سوشل میڈیا پر دیکھی گئی ویڈیوز انہیں پہلی بار ویپ آزمانے پر آمادہ کرتی ہیں۔ اوپر سے پھلوں کے ذائقے، جدید ڈیزائن اور سگریٹ جیسی تیز بدبو نہ ہونے کی وجہ سے یہ احساس بھی نہیں ہوتا کہ وہ ایک ایسی چیز شروع کر رہے ہیں جس کا تعلق نکوٹین سے ہے، نہ کہ صرف خوشبودار بخارات سے۔

کیا ویپ سے سگریٹ چھوٹتا ہے یا صرف سگریٹ نوشی کی شکل بدلتی ہے؟

اس سوال کا ایک لفظ میں جواب دینا ممکن نہیں، کیونکہ نتیجہ اس بات پر منحصر ہے کہ ویپ کس مقصد کے لیے استعمال کی جا رہی ہے۔ اگر ایک بالغ سگریٹ نوش ڈاکٹر یا تمباکو نوشی چھوڑنے کے پروگرام کی مدد سے سگریٹ مکمل طور پر چھوڑ کر ویپ استعمال کرتا ہے، پھر آہستہ آہستہ نکوٹین کی مقدار بھی کم کرتا جاتا ہے، تو ویپ اس کے لیے سگریٹ چھوڑنے کا ایک ذریعہ بن سکتی ہے۔

لیکن اگر کوئی شخص سگریٹ چھوڑنے کے بعد برسوں تک ویپ ہی استعمال کرتا رہے، ہر تھوڑی دیر بعد کش لیتا رہے اور نکوٹین پر انحصار برقرار رہے، تو پھر صرف عادت کی شکل بدلی ہے، عادت خود نہیں۔اسی لیے کامیابی کا اصل معیار یہ نہیں کہ ہاتھ میں سگریٹ ہے یا ویپ۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا انسان نکوٹین پر اپنا انحصار کم کر رہا ہے یا صرف تمباکو کے دھوئیں کی جگہ خوشبودار بخارات نے لے لی ہے؟

اب دوبارہ اسی ہاسٹل کے کمرے میں چلتے ہیں جہاں ایک دوست دوسرے سے کہتا ہے، “یار، صرف ایک پف ہے، کچھ نہیں ہوتا۔” یہ درست ہے کہ ہر نوجوان ایک پف سے عادی نہیں بنتا، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ نکوٹین استعمال کرنے والا ہر شخص اپنی زندگی میں کبھی نہ کبھی پہلی بار ہی اسے آزما رہا تھا۔

اس لیے اگلی بار جب کوئی کہے،”صرف ایک پف لے لو “تو خود سے صرف ایک سوال ضرور پوچھیں کہ جس چیز کی مجھے ضرورت ہی نہیں، کیا واقعی اسے آزمانے کی بھی ضرورت ہے؟

ارفعہ طیب لاہور سے تعلق رکھنے والی میڈیا کمیونیکیشن کی طلبہ ہیں، جو نوجوان نسل کے مسائل اور سماجی موضوعات پر لکھتی ہیں ۔