لاہور کے شادمان میں ٹریفک حادثے میں نوجوان محمد زین کی موت پر اہل خانہ کا احتجاج، پولیس پر سنگین الزامات۔
لاہور: (رائیٹ ناؤ نیوز) شادمان میں ٹریفک حادثے میں نوجوان محمد زین کی موت پر اہل خانہ نے پولیس اور ٹریفک وارڈن پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ محمد زین الیکٹریشن تھا اور حال ہی میں منگنی ہوئی تھی، والدہ نے انصاف نہ ملنے پر احتجاج کیا۔
محمد زین کی موت کے بعد والدہ نے کہا کہ ہمیں کہا جا رہا ہے کہ تحریری طور پر بیان دیں کہ حادثہ زین کی غلطی سے ہوا، جس کے بعد ہی لاش حوالے کی جائے گی۔
اہل خانہ نے ڈی آئی جی آپریشنز لاہور کو درخواست دی کہ وارڈن نے سڑک کے درمیان آ کر نوجوان کو دھکا دیا، جس سے وہ موٹر سائیکل سمیت فٹ پاتھ سے ٹکرا گیا۔
درخواست کے مطابق، نوجوان کو تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں آپریشن کے باوجود وہ جانبر نہ ہو سکا۔ اہل خانہ نے الزام لگایا کہ وارڈن نے خود کو بچانے کے لیے مقدمہ درج کروا رکھا ہے۔
یاد رہے کہ اہل خانہ نے زین کا سامان واپس کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور اعلیٰ حکام سے شفاف تحقیقات اور ذمہ دار اہلکار کے خلاف کارروائی کی اپیل کی ہے۔ سی ٹی او نے ایس ایس پی صدر زون کو انکوائری کا حکم دے دیا ہے۔















