وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے وفاق کی جانب سے این ایچ پی واجبات کی عدم ادائیگی پر احتجاج کرتے ہوئے صوبے کے حقوق کے لیے عدالت جانے کا اعلان کیا ہے۔
پشاور: (رائیٹ ناؤ نیوز) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے اعلان کیا ہے کہ اگر وفاق سے صوبے کے حقوق کے لیے ریلیف نہ ملا تو عدالت سے رجوع کیا جائے گا۔ خیبرپختونخوا کے قدرتی وسائل پورے ملک کی توانائی ضروریات میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
انہوں نے محکمہ توانائی و برقیات کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ صوبہ نیشنل گرڈ کو 70 فیصد سے زائد ہائیڈل بجلی فراہم کر رہا ہے۔ باوجود اس کے وفاق کے ذمے این ایچ پی کے 2300 ارب روپے واجب الادا ہیں۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ خیبرپختونخوا کی مالی حالت این ایچ پی کی ادائیگی میں تاخیر اور عدم توازن کی وجہ سے متاثر ہو رہی ہے۔ صوبہ اپنے ٹرانسمیشن و گرڈ نظام کو مضبوط کر رہا ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 158 کے تحت خیبرپختونخوا کو قدرتی وسائل کے استعمال میں ترجیح حاصل ہے۔ پیٹرولیم پالیسی 2012 کے تحت وفاق سے گیس کی فروخت کا معاملہ اٹھایا جائے گا۔
یاد رہے کہ خیبرپختونخوا میں پیڈو کے منصوبے 7890 میگاواٹ پر مشتمل ہیں، جبکہ صوبہ ملک کی 48 فیصد خام تیل پیداوار فراہم کر رہا ہے۔













