سندھ اسمبلی میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس پر دوسرے روز بھی بحث جاری

سندھ اسمبلی میں نئے صوبوں پر پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیان اختلافات جاری ہیں۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
سندھ اسمبلی میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس پر دوسرے روز بھی بحث جاری

کراچی: (رائیٹ ناؤ نیوز) سندھ اسمبلی میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے معاملے پر بحث کا سلسلہ دوسرے روز بھی جاری ہے۔ پیپلز پارٹی کی رکن سمعتا افضال نے کہا کہ سندھ کی تقسیم نہیں چاہتی اور کراچی سے کشمور تک سندھ ہماری ریڈ لائن ہے۔

سمعتا افضال نے کہا کہ سندھ میں بٹوارے کی بات مت کی جائے، چند لوگوں کی خواہش ہے کہ وہ سی ایم بن جائیں۔ ایم کیو ایم پاکستان کے رکن افتخار عالم نے کہا کہ یہ مسئلہ ایک صوبے یا ایک شہر کا نہیں، یہ پاکستان کے ریاستی اداروں کا سوال ہے۔

افتخار عالم کا کہنا تھا کہ انتظامی یونٹس کو سیاسی تناظر میں نہ دیکھا جائے، ہم سندھ توڑنے کی بات نہیں کر رہے، شہریوں کو فوری اور شفاف حکومت کی ضرورت ہے۔ پیپلز پارٹی کے رکن حسن علی شاہ نے کہا کہ صوبہ بنانے کے لئے اسمبلی میں دو تہائی اکثریت چاہئے، سندھ کی تقسیم کبھی بھی منظور نہیں۔

پی ٹی آئی کے رکن اویس احمد نے سوال کیا کہ نثار احمد کھوڑو نے تحریک التوا کیوں پیش کی؟ انہوں نے آئینی ترمیم کو تسلیم کرنے سے انکار کیا۔ پیپلز پارٹی کے رکن فاروق اعوان نے کہا کہ سندھ کی تقسیم مسائل کا حل نہیں، ہمیں سندھ کی تعلیم چاہئے۔

واضح رہے کہ سندھ اسمبلی میں نئے صوبوں کے قیام پر بحث جاری ہے اور مختلف جماعتوں کے اراکین نے اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ سندھ کی تقسیم کی مخالفت میں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیان اختلافات نمایاں ہیں۔

دیگر متعلقہ خبریں