عالمی ثالثی عدالت نے بھارت کو سندھ طاس معاہدے کی پاسداری کا حکم دیا، ہائیڈرو منصوبے معطل کریں۔ پاکستان کا خیرمقدم۔
دی ہیگ: (رائیٹ ناؤ نیوز) عالمی ثالثی عدالت نے بھارت کو سندھ طاس معاہدے کی پاسداری کا حکم دیتے ہوئے ہائیڈرو الیکٹرک منصوبوں پر کام روکنے کی ہدایت کی ہے۔ عدالت نے بھارت کے یکطرفہ معطل کرنے کے اقدام کو مسترد کر دیا ہے۔
عدالت نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ بدستور نافذ العمل ہے اور بھارت کو اپنی قانونی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی۔ بھارت کے مغربی دریاؤں پر پن بجلی منصوبوں کے ڈیزائن اور آپریشن سے متعلق شرائط پر عمل کرنا ہوگا۔
پاکستانی حکومت نے عدالت کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کو معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی ہوں گی۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ معاہدے کی معطلی کی کوئی قانونی گنجائش نہیں۔
یہ فیصلہ اہم ہے کیونکہ سندھ طاس معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان پانی کی تقسیم کا مستقل معاہدہ ہے۔ معاہدے پر عملدرآمد سے دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی میں کمی کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ بھارت نے گزشتہ سال سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ معطل کر دیا تھا، جس پر پاکستان نے سخت رد عمل کا اظہار کیا تھا۔ معاہدہ 1960 میں عالمی بینک کی ثالثی سے طے پایا تھا۔












