پمز اسپتال میں آتشزدگی کے باعث قائمہ کمیٹی برائے صحت نے ڈاکٹرز کی معطلی اور وزیر صحت کے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناؤ نیوز) پمز اسپتال میں بچوں کی نرسری میں آتشزدگی کے باعث قائمہ کمیٹی برائے صحت نے اسپتال انتظامیہ کے جوابات پر غیر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ کمیٹی نے واقعے کے وقت ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹرز اور اسٹاف کو معطل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
اسپتال حکام کے مطابق آتشزدگی کی وجوہات تاحال واضح نہیں ہو سکی ہیں۔ ڈاکٹر مہیش کمار نے دعویٰ کیا ہے کہ سی سی ٹی وی فوٹیج سے بھی آگ کی اصل وجہ معلوم نہیں ہو سکی۔ انہوں نے واقعے کی خود تحقیقات کرنے کا اعلان کیا ہے۔
کمیٹی نے اسپتال میں اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا ہے جس میں پی ٹی آئی کے سینیٹرز کو بھی مدعو کیا گیا ہے۔ اسپتال انتظامیہ نے پروفیسر ڈاکٹر عاطف انعام کی سربراہی میں ایک خصوصی کمیٹی قائم کر دی ہے جو 48 گھنٹوں میں رپورٹ پیش کرے گی۔
واضح رہے کہ پمز اسپتال کی نرسری میں آتشزدگی کے واقعے نے عوام میں شدید غم و غصہ پیدا کیا ہے۔ وفاقی وزیر صحت نے کہا ہے کہ جو بھی ذمہ دار ہوگا اس کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔
وزیراعظم نے پمز اسپتال میں آتشزدگی کے واقعے پر اظہار افسوس کرتے ہوئے فوری تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ نرسری کے عملے سے تحریری بیانات طلب کیے گئے ہیں اور سی سی ٹی وی کا ریکارڈ قبضے میں لے لیا گیا ہے۔















