احمد فراز کو بچھڑے 18 سال، ادبی حلقے تعزیتی تقریبات میں مصروف

احمد فراز کی 18ویں برسی پر ملک بھر میں تعزیتی تقریبات کا انعقاد، ان کی ادبی خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا جا رہا ہے۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
احمد فراز کو بچھڑے 18 سال، ادبی حلقے تعزیتی تقریبات میں مصروف

مکو آ نہ: (رائیٹ ناؤنیوز) اردو ادب کے معروف شاعر احمد فراز کو مداحوں سے بچھڑے 18 سال مکمل ہو گئے۔ ملک بھر کے ادبی حلقوں میں تعزیتی تقریبات کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ ان تقریبات میں احمد فراز کی ادبی خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا جا رہا ہے۔

احمد فراز 25 اگست 2008 کو انتقال کر گئے تھے۔ وہ 14 جنوری 1931 کو پشاور میں پیدا ہوئے تھے اور ان کا پہلا شعری مجموعہ تنہا تنہا دوران تعلیم ہی لکھا تھا۔ ان کے دیگر مشہور مجموعہ کلام میں درد آشوب، نایافت اور جاناں جاناں شامل ہیں۔

احمد فراز کو مختلف ملکی اور غیرملکی ایوارڈز سے نوازا گیا تھا۔ انہوں نے سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں احتجاجاً ہلال امتیاز واپس کر دیا تھا۔ ان کی شاعری کے مختلف زبانوں میں تراجم بھی شائع ہوئے ہیں۔

احمد فراز گردوں کے عارضے کا شکار تھے اور علاج کے لیے امریکہ بھی گئے تھے۔ تاہم 25 اگست 2008 کو اسلام آباد کے اسپتال میں انتقال کر گئے۔

یاد رہے کہ احمد فراز کی شاعری نے اردو ادب میں اہم مقام حاصل کیا اور ان کی شخصیت نے بہت سے لوگوں کو متاثر کیا۔ ان کے انتقال کے بعد بھی ان کا نام ادب کی دنیا میں زندہ ہے۔

دیگر متعلقہ خبریں