سپریم کورٹ نے ایمان مزاری کیس میں سزا معطلی کی اپیلوں پر ہائیکورٹ کے سسٹم کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ عدالت نے مزید سماعت 17 ستمبر تک ملتوی کی ہے۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناؤ نیوز) سپریم کورٹ میں ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کی سزا معطلی کی اپیلوں پر سماعت ہوئی۔ جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ ہائیکورٹ کے سسٹم پر رائے نہ لی جائے تو بہتر ہے۔
دوران سماعت جسٹس نعیم اختر افغان کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے اپیلوں کا جائزہ لیا۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے ہائیکورٹ کی چھٹیوں کے متعلق بتایا اور کہا کہ اپیلیں قابل سماعت نہیں۔
عدالت میں وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ سپریم کورٹ نے دو ہفتے میں فیصلہ کرنے کا حکم دیا تھا۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ ہائیکورٹ کا اپنا نظام ہے۔
جسٹس نعیم اختر افغان نے فیصل صدیقی سے کہا کہ سسٹم کو ایکسپوز ہونے دیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کیس غائب ہوسکتا ہے لیکن عدالت موجود رہے گی۔
یاد رہے کہ ہائیکورٹ کی جانب سے کیس کی سماعت 8 ستمبر کو مقرر کی گئی تھی۔ عدالت نے مزید سماعت 17 ستمبر تک ملتوی کر دی ہے۔















