وفاقی آئینی عدالت نے فیصلہ دیا ہے کہ متنازع دستاویزات کی اصلیت کا فیصلہ سول عدالت کرے گی۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناؤ نیوز) وفاقی آئینی عدالت نے فیصلہ صادر کیا ہے کہ ایک ہی معاملے پر سول اور کریمنل کارروائی ایک ساتھ نہیں چل سکتی۔ عدالت نے کہا ہے کہ متضاد فیصلوں سے انصاف متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
آئینی عدالت نے وضاحت کی کہ ملکیتی تنازع سول عدالت میں زیر سماعت ہو تو فوجداری عدالت کو فیصلے کا انتظار کرنا چاہیے۔ متنازع دستاویزات کی اصلیت کا فیصلہ سول عدالت کرے گی۔
عدالت کے مطابق سول عدالت کے فیصلے کے بعد ہی درخواست گزاروں کے خلاف فوجداری کارروائی شروع کی جا سکتی ہے۔ سول اور فوجداری مقدمات کا تعلق ہو تو فوجداری کارروائی روکنے کی گنجائش ہے۔
عدالت نے مزید کہا کہ فوجداری کارروائی روکنے کا فیصلہ متعلقہ حالات اور انصاف کے تقاضوں کو مدنظر رکھ کر کیا جائے۔ متنازع دستاویزات کی قانونی حیثیت کا فیصلہ سول عدالت کے اختیار میں ہے۔
یاد رہے کہ عدالت نے یہ فیصلہ سابق ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر بنوں کے کیس میں جاری کیا تھا۔ اساتذہ کی بھرتیوں میں بے ضابطگیوں پر فوجداری کارروائی شروع کی گئی تھی۔












