ٹرمپ حکومت کی ایران سے خفیہ مذاکرات کی کوشش، کردستان ریجن کا اہم کردار

امریکہ اور ایران کے درمیان خفیہ مذاکرات کی کوشش ناکام، کردستان کے صدر نچیروان بارزانی کا اہم کردار۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
ٹرمپ حکومت کی ایران سے خفیہ مذاکرات کی کوشش، کردستان ریجن کا اہم کردار

واشنگٹن: (رائیٹ ناؤ نیوز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے ایرانی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) سے براہِ راست رابطہ کیا۔ اس خفیہ بیک چینل کے لیے عراقی کردستان ریجن کے صدر نچیروان بارزانی کو رابطہ کار مقرر کیا گیا۔

ایگزیوس کی رپورٹ کے مطابق یہ اقدام مئی کے وسط میں اس وقت کیا گیا جب امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی کوششیں شروع ہوئیں۔ امریکی حکام نے پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر جنرل احمد واحدی تک رسائی کی کوشش کی، مگر اربیل ایئربیس پر مجوزہ خفیہ ملاقات ممکن نہ ہو سکی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکی انتظامیہ نے براہ راست پاسدارانِ انقلاب کی قیادت سے مذاکرات کی تصدیق چاہی، تاکہ جنگ بندی کے معاہدے کی حمایت حاصل ہو سکے۔ وائٹ ہاؤس نے ایرانی سرکاری مذاکرات کاروں کو نظر انداز کرکے پاسدارانِ انقلاب تک پہنچنے کی کوشش کی۔

یہ کوشش عراق کے کردستان ریجن کے صدر نچیروان بارزانی کی مدد سے کی گئی، جن کے امریکی اور ایرانی حلقوں میں روابط ہیں۔ ایران کے ساتھ مذاکرات کی میزبانی کے لیے اربیل کی تجویز دی گئی، مگر ایرانی حکام نے سکیورٹی خدشات کے باعث اسے مسترد کر دیا۔

یاد رہے کہ پاکستان اور قطر بھی امریکہ اور ایران کے درمیان امن کے قیام کے لیے رابطے میں ہیں۔ نچیروان بارزانی نے حالیہ طور پر وائٹ ہاؤس سے دوبارہ رابطہ کیا ہے، جبکہ بریٹ میک گرک کے مطابق اصل مسئلہ آبنائے ہرمز سے متعلق ایران کی پالیسی ہے۔

دیگر متعلقہ خبریں