وائٹ ہاؤس نے 40 ممالک پر چینی مصنوعات کی امریکی منڈی تک غیر قانونی رسائی میں معاونت کا الزام لگایا ہے۔ ٹیرف چوری کی فہرست میں بھارت، اسرائیل اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔
واشنگٹن: (رائیٹ ناؤ نیوز) وائٹ ہاؤس نے ایک رپورٹ جاری کرتے ہوئے 40 سے زائد ممالک پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ چینی مصنوعات کی امریکی منڈی تک رسائی میں ٹیرف چوری میں معاونت کر رہے ہیں۔ یہ ممالک چینی مصنوعات کو کم ٹیرف والے ممالک کے راستے امریکہ پہنچانے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، یہ ممالک چینی مصنوعات کو دوسرے ممالک کے راستے ری لیبلنگ اور ری پیکنگ کے ذریعے امریکی ٹیرف سے بچا کر امریکہ بھیجتے ہیں۔ اس طریقے سے امریکہ کو سالانہ اربوں ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ گریٹ ٹرانس شپمنٹ اسکیم کی وجہ سے غیر قانونی ٹرانس شپمنٹ کا حجم 40 ارب سے 303 ارب ڈالر تک ہوسکتا ہے۔ اس سے تقریباً 4 لاکھ 50 ہزار امریکی ملازمتیں متاثر ہو سکتی ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ مسئلہ 2018 کے بعد سے بڑھا ہے اور ٹیرف چوری کی فہرست میں بھارت، اسرائیل اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔ تاہم، پاکستان کا نام اس فہرست میں نہیں ہے۔
یاد رہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ٹیرف چوری روکنے کے لیے کسٹمز نگرانی سخت کرنے کا اعلان کیا ہے اور مشکوک درآمدات کی نشاندہی کے لیے ‘ڈیٹیکٹو بارڈر’ نظام متعارف کرانے کی تجویز دی ہے۔ امریکی کسٹمز مصنوعی ذہانت سے بھی مدد لے گا۔













