یوکرینی صدر زیلنسکی کا الزام، روس شمالی کوریا کے فوجیوں اور میزائلوں پر انحصار کر رہا ہے۔ یہ تعاون دیگر ممالک کے لیے بھی خطرہ بن سکتا ہے۔
کیف: (رائیٹ ناؤ نیوز) یوکرین کے صدر ولودو میر زیلنسکی نے الزام عائد کیا ہے کہ روس شمالی کوریا کی مدد کے بغیر جنگ جاری رکھنے کی صلاحیت کھو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ روس کی تاریخ میں پہلی بار اس کے پاس کوئی اسٹریٹجک ذخیرہ نہیں بچا ہے۔
یوکرینی صدر کا کہنا ہے کہ روس کو مزید فوجی دستے اور بیلسٹک میزائل شمالی کوریا سے موصول ہو رہے ہیں۔ ان کے مطابق شمالی کوریا کے 30 ہزار سے 50 ہزار فوجی روس میں تعینات کیے جا رہے ہیں۔
زیلنسکی نے مزید بتایا کہ روس اور شمالی کوریا کے درمیان بڑھتا ہوا فوجی تعاون یوکرین کے ساتھ ساتھ دیگر ممالک کے لیے بھی خطرہ بن سکتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس تعاون کے دور رس اثرات ہو سکتے ہیں۔
یوکرینی صدر نے کہا کہ شمالی کوریا کے میزائلوں اور فوجیوں کی شمولیت سے شمالی کوریا کو اپنی جنگی صلاحیتوں کو حقیقی جنگی حالات میں آزمانے کا موقع مل رہا ہے۔ یہ صورتحال یوکرین کے لیے تشویشناک ہے۔
یاد رہے کہ روس اور شمالی کوریا کے درمیان فوجی تعاون میں اضافہ یوکرین کے خلاف روس کی جنگی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ اس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے تعلقات میں مزید مضبوطی آ رہی ہے۔















