ایران کے وزیر خارجہ نے مصر کی دمیطہ بندرگاہ پر ڈرون حملے کو اسرائیل کا ‘فالس فلیگ آپریشن’ قرار دیا ہے، جس کا مقصد خطے کے امن کو نقصان پہنچانا ہے۔
قاہرہ: (رائیٹ ناؤ نیوز) مصر کی دمیطہ بندرگاہ پر دو گیس بردار جہازوں پر ڈرون حملے کے بعد ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اسرائیل کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ حملہ اسرائیل کا ‘فالس فلیگ آپریشن’ ہے جس کا مقصد خطے کے امن کو نقصان پہنچانا ہے۔
عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پر کہا کہ مصر ایران کا اہم دوست ہے اور اس کی سلامتی تہران کے لیے اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام ممالک کو اسرائیل کی سازشوں سے ہوشیار رہنا چاہیے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ خطے کو درپیش خطرہ مشترکہ ہے اور ایسے اقدامات مسلم ممالک کے اتحاد کو متاثر کر سکتے ہیں۔ انہوں نے خطے کے ممالک کو خبردار کیا کہ وہ اسرائیل کے فالس فلیگ آپریشنز سے محتاط رہیں۔
دوسری جانب مصر کے وزیر اعظم مصطفیٰ مدبولی نے کہا ہے کہ حکام نے حملے میں استعمال ہونے والے ڈرون کا ملبہ برآمد کر لیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈرون کی تکنیکی و سکیورٹی جانچ کی جارہی ہے تاکہ اس کے ماخذ کا پتہ چل سکے۔
یاد رہے کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق بندرگاہ پر دو گیس بردار جہازوں میں آگ ڈرون حملے کے باعث لگی۔ تاہم، کسی گروہ یا ملک نے ذمہ داری قبول نہیں کی اور تحقیقات جاری ہیں۔














