بنیامین نیتن یاہو نے رومن گوفمین کو موساد کا نیا سربراہ مقرر کیا

بنیامین نیتن یاہو نے میجر جنرل رومن گوفمین کو موساد کا نیا سربراہ مقرر کر دیا، جن کی تقرری خفیہ ایجنسی کے شعبے میں پس منظر نہ ہونے کے باوجود ہوئی۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک

تل ابیب: (رائیٹ ناوٴ نیوز) اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے میجر جنرل رومن گوفمین کو خفیہ ایجنسی موساد کا نیا سربراہ مقرر کر دیا ہے۔ گوفمین کی تقرری اس لیے خاص توجہ کا مرکز بنی ہے کہ ان کا خفیہ ایجنسی کے شعبے میں کوئی پس منظر نہیں۔

رومن گوفمین، جنہوں نے موجودہ چیف ڈیوڈ بارنیا کی جگہ لی ہے، طویل فوجی خدمات اور جنگی تجربہ رکھتے ہیں۔ ان کی تقرری ایسے وقت میں ہوئی ہے جب بارنیا کی مدت ملازمت جون 2026 میں ختم ہو رہی ہے۔ گوفمین 1976 میں بیلاروس میں پیدا ہوئے اور کم عمری میں اسرائیل منتقل ہوئے۔ غزہ جنگ کے دوران وہ شدید زخمی ہو گئے تھے، لیکن صحت یابی کے بعد انہیں نیتن یاہو کے ملٹری سیکریٹری کے طور پر شامل کیا گیا۔

حالیہ برسوں میں نیتن یاہو نے اہم سیکیورٹی اداروں کی ذمہ داریاں ایسے افسروں کو دی ہیں جو ان کے نظریاتی مؤقف سے قریب سمجھے جاتے ہیں۔ گوفمین مذہبی یہودیوں کا مخصوص لباس نہیں پہنتے، لیکن قدامت پسند مذہبی درسگاہ میں تعلیم حاصل کر چکے ہیں۔

موساد کو 7 اکتوبر کے حملوں کی انٹیلی جنس ناکامی کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا گیا، جبکہ شِن بیت اور فوجی انٹیلی جنس کے سربراہان نے ناکامی تسلیم کرتے ہوئے استعفے دیے۔ موساد نے اس دوران خطے میں سرگرم کردار ادا کیا، جن میں حزب اللہ کی قیادت کو نشانہ بنانا اور ایران کے خلاف اہم آپریشنز شامل ہیں۔

اسرائیل کی سیکیورٹی قیادت میں یہ تقرری ایک اور بڑی تبدیلی ہے، جو خطے کی جاری کشیدگی اور مستقبل کے چیلنجوں کے تناظر میں اہمیت رکھتی ہے۔

دیگر متعلقہ خبریں