عمان نے ایران کو آبنائے ہرمز کی انتظامی شراکت داری کی پیشکش کی ہے، جس میں خلیجی ممالک کی حمایت شامل ہے۔ اس کا مقصد خطے میں استحکام پیدا کرنا ہے۔
مسقط: (رائیٹ ناؤ نیوز) عمان نے ایران کو آبنائے ہرمز کے انتظام کے لیے ایک منصوبہ پیش کیا ہے۔ اس منصوبے کو خلیجی ممالک کی حمایت حاصل ہے اور اس میں آبنائے کے استعمال پر رضاکارانہ فیس کی تجویز شامل ہے۔
عمان کے اس منصوبے کا مقصد آبنائے ہرمز میں تجارت کی رکاوٹوں کو کم کرنا ہے۔ مغربی سفارت کاروں کے مطابق یہ اقدام خطے میں استحکام پیدا کرنے کی کوشش ہے۔
ایرانی ذرائع کے مطابق تہران نے ابھی تک عمان کی تجاویز کا باضابطہ جواب نہیں دیا ہے۔ یہ تجاویز ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث تجارت کی رکاوٹوں کے خاتمے کی بنیاد بن سکتی ہیں۔
واضح رہے کہ امریکا اور اسرائیل کی کارروائیوں کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز پر اپنی گرفت مضبوط کر لی تھی۔ اس کے باعث عالمی تجارت متاثر ہوئی تھی، جو جنگ سے قبل دنیا کا ایک بڑا حصہ تیل اور گیس کی ترسیل اسی راستے سے ہوتا تھا۔
یاد رہے کہ عمانی منصوبے کے تحت ایران کو آبنائے ہرمز پر مکمل اختیار حاصل نہیں ہوگا۔ یہ نظام انڈونیشیا، ملائیشیا اور سنگاپور کے ماڈل سے مشابہ ہے، جہاں جہازوں سے رضاکارانہ فیس وصول کی جاتی ہے۔














