بیرسٹر عقیل نے سپریم کورٹ کے نیب مقدمات پر فیصلے کو آئینی اصولوں کی واضح تشریح قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ عدلیہ کے استحکام کی نمائندگی کرتا ہے۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناؤ نیوز) بیرسٹر عقیل نے نیب مقدمات کے سپریم کورٹ کے فیصلے پر اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس فیصلے نے آئینی اصولوں کو واضح انداز میں بیان کیا ہے۔
بیرسٹر عقیل کے مطابق عدالتی فورم کا تعین فریقین کی خواہش یا سیاسی مفاد پر نہیں ہوتا۔ بلکہ آئین اور قانون کے مطابق ہوتا ہے۔ نیب مقدمات میں دوسری اپیل کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل ہو چکا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ضمانت سمیت تمام متعلقہ کارروائیاں آئینی عدالت کے دائرہ اختیار میں آئیں گی۔ یہ فیصلہ کسی شخصیت یا سیاسی جماعت کی جیت یا ہار کا نہیں ہے۔
یہ فیصلہ عدالتی نظام کے استحکام اور آئین کی بالادستی کی علامت ہے۔ مضبوط عدلیہ وہی ہے جو آئین کی مقرر کردہ حدود کا احترام کرتی ہے۔
یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے آئین اور قانون کے مطابق دائرہ اختیار کی درست تشریح کی ہے۔ یہ فیصلہ عدلیہ کی مضبوطی کے لیے اہم ہے۔












