پاکستان تحقیقی بدعنوانی میں عالمی درجہ بندی میں سرِفہرست، تحقیقاتی معیار پر سوالات

پاکستان نے 2025 کی عالمی درجہ بندی میں تحقیقی بدعنوانی میں پہلی پوزیشن حاصل کر لی، ماہرین نے اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
پاکستان تحقیقی بدعنوانی میں عالمی درجہ بندی میں سرِفہرست، تحقیقاتی معیار پر سوالات

اسلام آباد: (رائیٹ ناؤ نیوز) 2025 کی عالمی درجہ بندی میں پاکستان تحقیقی بدعنوانی میں پہلے نمبر پر آ گیا ہے۔ ریٹریکشن واچ ڈیٹا بیس کے مطابق پاکستان میں ہر 10 ہزار تحقیقی دستاویزات میں 64.1فیصد واپس لیے گئے۔

رپورٹ کے مطابق سعودی عرب 42.8 فیصداور نائیجیریا 35.7 کی شرح کے ساتھ بالترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر ہیں۔ عراق، مصر، ایران جیسے ممالک بھی ابتدائی 10 میں شامل ہیں۔

اعداد و شمار سے ظاہر ہے کہ یہ درجہ بندی تحقیقی پیداوار کے تناسب سے بنائی گئی ہے۔ چین اور بھارت کے زیادہ مقالات واپس لیے جانے کے باوجود، ان کی اشاعتیں زیادہ ہونے کی وجہ سے یہ ممالک نیچے ہیں۔

ماہرین کہتے ہیں کہ عالمی ادارے مصنوعی ذہانت سے مواد کی جانچ کے جدید نظام متعارف کرا رہے ہیں۔ ان کا مقصد تحقیقی معیار کو مضبوط بنانا ہے۔

واضح رہے کہ ماہرین پاکستان کی اس درجہ بندی کو تحقیقی شعبے کے لیے سنجیدہ تنبیہ قرار دے رہے ہیں۔ جامعات اور اداروں کو اشاعتی اخلاقیات بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

دیگر متعلقہ خبریں