وفاقی آئینی عدالت نے سپریم کورٹ کے مونال ریسٹورنٹ گرانے کے فیصلے کو کالعدم قرار دے کر معاملہ ٹرائل کورٹ کے حوالے کر دیا۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناؤ نیوز) وفاقی آئینی عدالت نے سپریم کورٹ کا مونال ریسٹورنٹ گرانے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا ہے۔ یہ فیصلہ مارگلہ ہلز میں واقع مونال ریسٹورنٹ کو گرانے کے مقدمے میں سامنے آیا ہے، اور عدالت نے زمین کی ملکیت کا فیصلہ متعلقہ ٹرائل کورٹ کو کرنے کا حکم دیا ہے۔
وفاقی آئینی عدالت نے سی ڈی اے اور میٹروپولیٹن کارپوریشن کی اپیلیں منظور کرلی ہیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ زمین کی ملکیت کا مقدمہ سول کورٹ میں زیر التوا ہے، اور اس کا فیصلہ ٹرائل کورٹ ہی کرے گی۔ عدالت نے ہدایت کی کہ زیر التوا مقدمات جلد نمٹائے جائیں۔
سماعت کے دوران جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ سابق فیصلے میں کئی اہم قانونی نکات زیر غور نہیں آئے تھے۔ عدالت نے کہا کہ فیصلے قانون کے مطابق ہوتے ہیں، غیر متعلقہ باتوں کی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔
یہ فیصلہ اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس سے مارگلہ ہلز نیشنل پارک میں تجارتی سرگرمیوں کے حوالے سے عدالتی نقطہ نظر کو نئی شکل ملی ہے۔ اس سے متعلقہ قانونی معاملات کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔
واضح رہے کہ 11 جون 2024 کو سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ نے مارگلہ ہلز نیشنل پارک میں مونال ریسٹورنٹ کو گرانے کا حکم دیا تھا۔ اس حکم پر عملدرآمد کرتے ہوئے ریسٹورنٹ کو منہدم کر دیا گیا تھا، لیکن اب اس فیصلے نے ایک نیا قانونی رخ اختیار کر لیا ہے۔












