سینیٹ کمیٹی کے اجلاس میں چیئرمین واپڈا نے پانی کے مؤثر استعمال کی ضرورت پر زور دیا۔ اربوں لیٹر پانی ضائع کرنے سے بچنے کے اقدامات لازمی ہیں۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناؤ نیوز) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل کے اجلاس میں چیئرمین واپڈا نے بتایا کہ ہر سال اربوں لیٹر پانی سمندر برد ہو جاتا ہے۔ پانی کے مؤثر استعمال اور سیلاب سے بچاؤ کے لیے جامع اقدامات کی ضرورت ہے۔
چیئرمین واپڈا نے نئی گنج ڈیم میں جعلی بینک گارنٹی کے معاملے پر روشنی ڈالی۔ معاملے کی تصدیق میں 5 سال لگ گئے اور اب تک 23 ارب روپے خرچ ہو چکے ہیں۔
گلگت بلتستان میں 35 میگاواٹ کے ہارپو ڈیم کی تعمیر کا منصوبہ زیر غور ہے۔ اس کی لاگت 34 ارب روپے ہے اور دسمبر 2026 تک کنٹریکٹ ایوارڈ کیا جائے گا۔
واپڈا حکام نے بتایا کہ ادارہ اس وقت چار بڑے منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔ دیامر بھاشا ڈیم کے لیے 94 ارب روپے کی ضرورت ہے لیکن حکومت نے 10 ارب روپے فراہم کیے ہیں۔
واضح رہے کہ نیلم جہلم منصوبے میں تکنیکی مسائل کے باعث کام روک دیا گیا تھا۔ یہ منصوبہ 2028 میں دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔












